درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 188 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 188

IAA آتئے کا ندر دلم افروختی و زوم کی غیر خود را سوختی جلنے کو آگ سے گہرا تعلق ہے۔: تنسيق الصفات کئی صفات پے در پے لانا بغیر حرف عطف کے جیسے سے آفتاب هر زمین و هر زمان نے رہبر ہر اسود و بر احمر سے مجمع البحرین علم و معرفت : جامع الامین ابرو خاور سے ور تمین ۲۳۵) دور همین من) تاجداره هفت کشور آفتاب شرق و غرب بادشاہ ملک و ملت ملجاء هر خاکسانده در ثمین طلا) یہ خیال رہے کہ ان اشعار میں جو واؤ آئی ہیں ، وہ ضمنی حروف عطف ہیں۔مثلاً آفتاب شرق و غرب با وجود واؤ کے ایک ہی صفت ہے۔اور اس کے اور اس سے پہلی صفت تاجداره هفت کشور کے درمیان کوئی حرف عطف نہیں۔بعض مصنف اس صنعت کو صنائع لفظی میں شمار کرتے ہیں۔بر اعتہ الاستهلال یعنی شروع کلام میں ایسے لفظ آویں جن سے پتہ چل جائے کہ آگے کیا مضمون ہوگا جیسے ایک نظم کا مطلع ہے : سے در دلم جوشد ثنائے سروے : آنکه در خوبی ندارد ہمسر ور ثمین ! ے ترجمہ : جو اگ تو نے میرے دل میں روشن کی ہے ، اس کے شعلوں سے اپنے غیر کو جلا دیا ہے۔سے ترجمہ : وہ ہر ملک اور ہرزمانہ کے لئے آفتاب ہے، ہر کالے گورے کا رہی ہے علم اور معرف کا سنگم ہے۔بادل اور سوج دونوں کا جامع ہے۔وہ ساتوں ولایتیوں کا بادشاہ ہے۔مشرق و مغر کا سورج۔ملک ملت کا حکمران ہر خاکسار کی پناہ ہے۔کے ترجمہ : میرے دل میں اس شہنشاہ کی تعریف جوش زن ہے خو خو بیوں میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔