درثمین فارسی کے محاسن — Page 189
= اس سے صاف ظاہر ہے کہ آگے جو نظم ہے اس می رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح بیان کی جائے گی۔اسی طرح حسب ذیل مطلع جات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نظموں میں علی الترتیب نزول مسیح ، نعت رسول اور انسان کامل کی صفات کا بیان ہوگا۔جائی که از مسیح و نزولش سخن رود : گویم سخن اگرچه ندارند با ورم د در شین خدا) چون زمن آید ثنائے سرور عالی تبار ؟ : عاجز از مردش زمین و آسمان و هر دو دار در تخمین ) ہماں ز نوع بشر کامل از خدا باشد که با نشان نمایاں خدا نما بات د در ثمین ) مزاوجہ دو ایسے معنی شرط و جزا میں واقع ہوں کہ پہلے پر جو امر مرتب ہو دوسرے پر بھی وہی ہو جیسے۔تا وجودم هست خواهد بود عشقت در دلم تا دلم دوران خون دارد بتو دار و مدابر ور تین طلا) گر بگوئی غیر را رحماں خُدا تف زند بر روئے تو ارض و سما در تراشی بر آن یکتا پسر : بر تو بارو لعنت زیر و زبری در ثمین ) ے ترجمہ جہاں کہیں کسی اور کے نزول کا ذکر ہو۔وہاں کی بھی کچھ کچھ کہتا ہوں۔اگرچہ لوگ میرا یقین کریں مجھ سے اس عالی قدر سردار کی تعریف کس طرح ہو سکے جس کی مدح سے زمین و آسمان اور دونوں جہان عاجز ہیں۔انسانوں میں سے وہی خدا کی طرف سے کامل ہوتا ہے، جو روشن نشانوں کے ساتھ خدا دکھانے والا ہو۔ے ترجمہ : جب تک میرا وجود باقی ہے، تیرا عشق میرے دل میں ہے گا جب تک میرے دل میں خون گردش کرتا ہے گا میرا تھی پر بھروسہ ہے۔اگر تو کسی اور کو خدائے رحمان کہے تو تیرے منہ پر زمین و آسمان تھو کیں۔اگر اس یکتا خدا کے لئے تو کوئی بیٹا تجویز کرے گا تو نیچے اور اوپر سے تجھ پر لعنتیں برسیں گی۔