درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 167 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 167

144 استعارہ بالکنایہ کی مثالیں چوصوف صفا در دل آویختند : مداد از سواد عیون ریختند در ثمین ) یہاں دل استعار لن کو دوات (مستعار منہ) قرار دیا گیا ہے۔اور وہ (دوات) متروک ہے۔اور مستعار لہ مذکور ہے۔اور وجہ جامع ظرفیت ہے۔اسے بالکھنا یہ اس لئے کہتے ہیں، کہ یہاں دل اور دوات کی تصریح نہیں۔اسی طرح سے ر کاخ فلک را بخوانند از خار وخس آشیان چه تونی در تمین ) یہاں آشیانہ اور کاخ کے الفاظ سے اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو پندہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ پرندے گھونسلوں میں بسیرا کرتے ہیں اورمحلوں کے کنگروں پر بیٹھتے ہیں۔نیزے از بیٹے دنیا بریدن از خندا : بس میں باشد نشان اشقیان YAP ور ثمین (۲۸۳) حقیقت اور مجاز چونکہ استعارہ مجاز کی ایک قسم ہے جس کے مقابلہ میں حقیقت ہے۔اس لئے ان کی تعریف بھی نیچے ے ترجمہ : جب لوگ پاکیزگی کا صوف دل میں ڈالتے ہیں، تو آنکھوں کی سیاہی کی روشنائی اس میں ڈالتے ہیں۔کے ترجمہ : تجھے تو فرشتے آسمان کے محل کی طرف بلارہے ہیں پھر توگھونسلے کے گھاس پھونس میں کیا تلاش کر رہا ہے سے ترجمہ : دنیا کی خاطر خدا سے قطع تعلق کر لینا، بیس یہی بد بختوں کی نشانی ہے۔