درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 164 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 164

ہوس مختلف چیزوں کے لئے تیندوے کی تاروں کی طرح ہاتھ پھیلاتی ہے جنہیں رسیاں قرار دیا گیا ہے۔له (۴) تازه تو هستی است بدل نرود به این رگ شرک از تو بر نمرود د ورشین (۳۵) کبر بھی ایک جمال ہے جس کی تاریں انسان کے اندر پھیلی ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک۔شرک ہے۔که در زندان ناپاکیست موی امیر است را نام پاکبازان نکته این در زمین دام (۵) اپاکی یعنی گناہ کو قید خانہ قرار دینا کتنا چھوتا تخیل ہے مگر کس قدر یختہ اور درست بات ہے جسمانی ، اخلاقی اور روحانی گندگی کی عادت انسان کو ایسا جکڑ لیتی ہے کہ اس سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں رہتا۔الغرض ان اضافتوں سے کلام میں عجیب و غریب طریقوں سے حسن اور تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔استعاره یہ بھی ایک قسم کی تشبیہ ہی ہے لیکن اس میں حرف تشبیہ نہیں رہتے بلکہ شبہ کو جسے مستعار لہ کہتے ہیں۔دونوں میں سے ایک ضرور متروک ہوتا ہے۔اگر مستعارلہ متروک ہو۔اور مستعار منہ مذکور تو اسے استعارہ بالتصریح کہتے ہیں۔اور اگر مستعارلہ مذکور ہو۔اور مستعار منہ متروک تو اسے استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں۔اور وجہ شبہ کو وجہ جامع کہتے ہیں۔استعارہ کی اور بھی بہت قسمیں ہیں مثلاً بلحاظ لہ ترجمہ : - جب تک تیری خودی تجھ سے دور نہیں ہوگی۔یشرک کی رگ تجھ سے دُور نہیں ہوگی۔نے ترجمہ : وہ شخص ہوناپاکی کے قیدخان میں بناور گرفتار ہے بھی یا باروی کمار کی ان میں نکتہ چینی کرتاہے۔