درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 79 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 79

49 کلام کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔تاجس کا دل چاہے دیکھ لے کہ تاثر کے لحاظ سے بھی اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بھی حضرت اقدس کا کلام کہیں زیادہ فائق ہے حکیم سنائی " فرماتے ہیں : سے سخنش را بس لطافت و ظرف : صدمت صوت نی و زحمت حرف صفتش را حدوث کی سنجد : سخنش در حروف کی گنجد و ہم حیران رشکل صورت پاش : عقل واله زیستر سورت ماش مغز و نغز است حرف و سورت او به دلبر و دلپذیر صورت او زان گرفته مقیم قوت و قوت : زاده ملک و داوه سکوت ستراد ستر او بہر حل مشکلبا : روح جانبا و راحت دلها دل مجروح را شفاقتران به دل پر درد را دواستران تو کلام خدای را بے شک : گرنئی طوطی و حمار و آشک اصل ایمان و رکن تقوای دانه کان یا قوت و گنج معنی دان ہست قانون حکمت حکماء : بست معیار عادت علماء حديقة الحقيقة ) شد ترجمہ اس کام میں بڑی پاکیزگی اور رائی ہے، نہ ہی آواز میں کوئی ٹکراؤ ہے اور حروف میں کوئی خرابی۔اس کیلئے مخلوق ہونے کی صفت کیسے مناسب ہو سکتی ہے، اس کی بات حروف میں کیسے سما سکتی ہے۔اس کے حروف کی بناوٹ سے وہم حیران ہے اور اس کی سورتوں کے اسرارہ پر عقل پر یشان ہے۔اس کے حروف او سورتیں محکم بھی ہیں خوبصورت بھی اور اس کی صورت دلکش اور پسندیدہ ہے اس لوگوں کو قوت اور روزی حاصل ہوتی ہے۔وہ فرشتوں کا پیدا کردہ اور پروردگار کا عطیہ ہے مشکلات کے حل کے لئے اس کے اسرار روح کی غذا اور دلوں کی راحت ہیں۔زخمی دل کی شفا قرآن ہے۔دکھی دلوں کی ہوا قرآن ہے۔اگر تو طوط یا گدھایا چرنہیں ہے تو تو کلام خدا کو بلاشک وشیر ایمان کی جڑ تقوی کا ستون، جواہرات کی کان اور معانی کا خزانہ سمجھے۔وہ حکماء کی حکمت کا ضابطہ ہے۔علماء کے دستور کا پیمانہ ہے :