درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 80 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 80

اب حضرت اقدس کے روح پرور کلام کے کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیے :۔-۱ از نویر پاک قرآن صبح صفا د میده : برغنچہ ہائے دلہا باد صبا و یزیده این روشنی و لمعان شمس اصحئی ندارد و این دلبری و خوبی، گش در قمر ندیده یوسف البقعر چاہے محبوس ماند تنها و این یوسفی که تن با از چاه برکشیده از مشرق مکانی، صد ها و تالق آورد : قدر بلال نازک زمان ناز کی خمیده کیفیت معلومش دانی، چه شان دارد به مشهد لیست آسمانی از وحی حق چکیده آن نیز صداقت چون رو به عالم آورد به هر گوم شب پرست در گنج خود خزیده روئے یقیں نہ بلیند، ہر گز کسے بدنیا با الا کیسے که باشد، با رویش آرمیده آنکس که عالمیش شده شد محزن معارف : و آں بے خبر نہ عالم کی عالمے ندیده باران فضل رحمان آمد بمعترم او بد قسمت آنکه از وسے سوئے دیگر دویده دگر : له ترجمه 1- قرآن پاک کے نور سے روشن صبح طلوع ہو گئی۔اور دنوں کے غنچوں پر باد صبا چلنے لگی۔یہ روشنی اور چمک تو دو پہر کے سورج میں بھی نہیں ، ایسی دلکشی اور خوبصورتی تو کسی نے چاند میں بھی نہیں دیکھی۔یوسف تو ایک کنویں کی تہیں تنہا پڑ رہا تھا، یہ ایسا یوسف ہے جینے تن بار بہت شخصوں کو کنویں سے نکال بمطار کے منبع سے سینکڑوں باریک نکلتے نکال لیا۔اسی نزاکت کی وجہ سے اس کا بال ابتدائی راتوں کے چاند جیسا نازک قدیھی کا ہوا ہے کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کے علوم کی شان کیسی ہے ، وہ آسمانی شہد ہے جو وحی الہی سے ٹیکا ہے۔جب اس سچائی کے موئی نے اس دنیا کا رخ کیا تو رات کے پجاری تمام اتو اپنے کو نوں میں جا گھیے۔دنیامیں یقین کا منہ ہرگفتہ نہیں دیکھ سکتا سوائے اسکی چیرہ کا دیدار کر لینے کی وجہ سے تستی پائے۔جو کوئی اس کا عالم بن گیا وہ معرفت کا خزانہ بن گیا۔لیکن جس نے اس کیفیت کو نہ پایا۔وہ دنیا جہان سے بے خبر رہا۔خدا کے فصلوں کی بارش اس کے آنے کے ساتھ ہی آگئی۔بد قسمت ہے وہ جو اسے چھوڑ کر دوسری طرف بھاگ گیا ہنہ