درثمین فارسی کے محاسن — Page 76
44 عكس دیر انبیا علیہم السلام چونکہ رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے ساتھ دوسرے انبیاء پر ایمان لانا بھی لازم ہے۔اس لئے حضرت اقدس نے اپنے کلام میں کئی جگہ ان کی مدرج بھی بیان فرمائی ہے۔ایک جگہ نعت نبی بیان فرماتے ہوئے آپ نے دوسرے انبیاء کے ذکر کی طرف یوں گریز فرمایا اے اسے نگلا ابرو سے سلام مارساں : ہم برا خوانش زہر پیغمبر سے سر رسو لے آفتاب صدق بود : ہر کہ سولے، بودر مہر انور سے ہر رسولے بود خیلے دیں پناہ : ہر رسولے بود باغے متمرے گر بدنیا نامد سے ایں خیل پاک کار دیں ماندے سراسر ابتر ہے ہر کہ شکر بحث شان ، نارد بجا ب ہست او الائے حق را کافر سے که شاں، ای همه از یک صدف صد گو براند : متحد در ذات و اصل و گوہرے اتے ہرگز نبوده در جہاں + کاندرای نامد، بوقتے مندرے نے ے ترجمہ : اے خدا ہمارا اسلام اس رسول مقبول تک پہنچا ہے اور اسکی بھائیوں ہرایک خیمہ کوبھی ہر سو پائی کا سورج تھا۔ہر سوں ایک نہایت روشن آفتاب تھا۔ہر سوں دین کی پناہ دینے والا سایہ تھا۔ہر رسول ایک پھلدار باغ تھا۔اگر یہ پاک جماعت دینا میں نہ آتی تو دین کا کام بالکل پراگندہ رہتا۔جو شخص نیکی بعثت کا شکر بجا نہیں لاتا وہ حق تعالی کی نعمتوں کا منکر ہے۔وہ سب ایک سیپی سے پیدا ہوئے ہوئے، سینکڑوں ہوتی ہیں۔ذات، اصلیت اور حقیقت میں برابر ہیں۔دنیا میں ایسی کوئی قوم نہیں گزری جس میں کسی نہ کسی وقت کوئی نذیر ڈرانے والا ) نہ آیا ہوں؟