درثمین فارسی کے محاسن — Page 70
ایک اور مطیبی نعت ہے جس کے پہلے دس شعر یہ ہیں :۔چوں زمین اید اثنائے سرور عالی تبار : عاجز از مادش ، زمین آسمان پر دو دار آن مقام قرب کو اردو بدلدار قدیم به کسی نداند شان آن، از واصلان کردگار آن عنایت یا کہ محبوب ازل دارد بدو : کسی بخوابے ہم ندیده مثل کی اندر دیار سرور خاصان حق شاه گرده عاشقاں : آنکه دوش کر دئے ہر منزل ویل نیگار الی مبارک ہے کہ آمدذات با آیات او به رحمتے زاں ذات عالم پرور و پروردگار آنکه دار و قرب خاص اند جناب پاک حق آنکه شان و نهند۔کس زر خاصان دربار احمد آخر زماں، گو او لیس را جائے فخر : آخرین را مقتداء ملجاء كيف حصار هست درگاه بزرگی کشتی عالم پناه به کسی نگر در روز محشر بر پایش استنگار ز همه چیز گرون تر در هر نوع کمال + آسمانها پیش اوج همت او ذره وار مظہر نوگے کہ نہاں بود، از عبد الل به مطلع مس که بود از ابتدا، در استار در شین (۱۳۳۳) ے ترجمہ : مجھ سے اس عالمی خاندان سردار کی ثنا کیسے بیان ہو سکے جس کی مدح سے زمین آسمان بلکہ دونوں جہاں عاجز ہیں۔قرب کا وہ مقام جو اسے محبوب ازلی کے ہاں حاصل ہے اسی شان کو خدا رسیدہ لوگوں میں سے بھی کوئی نہیں جانتا، وہ مہربانیاں جو مجھو اپنی اس پر کرتا رہتا ہے، دیکھی نے کسی ملک میں بھی خواب میں بھی نہیں رکھیں۔وہ خدا تعالی کے برگزیدں کا سرد است اور عاشقان اہنی کی جماعت کا بادشاہ ہے جس کی رح نے محبوب کے وصل کے ہر درجہ کو طے کر لیا ہے وہ مبارک قوم جس کی ذات والا صفا اس رب العالمیں پروردگار کی طرف سے حمت بن کر نازل ہوئی۔وہ جسے بارگاہ اپنی ہی خاص قر با اصل ہے۔وہ جس کی شادی کو کوئی خواص اور بزرگ بھی نہیں سمجھ سکتے۔وہ احمد آخر ماں ہے جو پہنوں کے لئے نر کی جگہ اور پھلوں کے لئے پیشوا مقام پناہ بجائے حفاظت اور قلعہ ہے۔اسی عالی بارگاہ سارے جہان کو پناہ دینے والی کشتی ہے حشر کے دن کوئی بھی اس کی پناہ میں آئے بغیر نجات نہیں پائیگا۔وہ ہرقسم کے کماتا میں سے بڑھا ہوا ہے، اسکی بہت کی بلندی کے آگے آسمان بھی ایک ذرہ کی طرح ہیں۔وہ اس نور کا مظہر ہے جو ڑ ز ازل سے مخفی تھا اور اس سورج کے نکلنے کی جگہ ہے جو ابتدا سے ہی پوشیدہ تھا :