درثمین فارسی کے محاسن — Page ix
تھے۔دفتر سے واپسی کے بعد کپڑے تبدیل کر کے پھر میز پر جابیٹھتے۔ارتکاز توجہ کا یہ عالم تھا کہ ارد گرد کچھ بھی ہو رہا ہو آ پکی توجہ ذرہ بھر اسطرف مبذول نہیں ہوتی تھی۔جب بھی نماز یا کھانے کے لئے یا کسی ملاقاتی کے لئے یا کسی اور کام کیلئے میز سے اٹھنا پڑتا تو بلا ترددفوراً اُٹھ بیٹھتے اور جو نہی فارغ ہوتے ، ایک منٹ ضائع کئے بغیر جہاں سے کام چھوڑا ہوتا وہیں سے دوبارہ شروع کر دیتے۔چھٹی والے دن بھی سارا دن کام میں مصروف رہتے۔آپ کے بیٹے سفیر لحق بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے دریافت کیا کہ اتنا کام کرنے سے کیا آپکو کبھی تھکاوٹ نہیں ہوتی۔جواب میں آپ نے لذت کار کے فلسفہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب انسان کو کسی کام کی لگن ہو تو اس کام میں ایسی لذت پیدا ہو جاتی ہے کہ بجائے تھکاوٹ کے فرحت محسوس ہونی شروع ہوتی ہے۔آپکا حلقہ احباب بہت وسیع تھا اور جماعت میں علمی ذوق رکھنے والے احباب،خصوصاً محمد احمد صاحب مظہر، شیخ محمد اسمعیل پانی پتی صاحب اور بہت سے دوسرے احباب سے قریبی تعلق تھا۔فارسی کے حوالے سے جماعت سے باہر بھی پہنچانے جاتے تھے۔خصوصا کلاسیکی فارسی ادب پر آپکی بہت گہری نظر تھی اور تمام فارسی صوفیانہ ادب کا آپنے بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔بہت سے شاگردوں نے آپ سے اکتساب فیض کیا۔درشین فاری کی طبع ثانی پر شیخ محمد اسمعیل پانی پتی صاحب کے ساتھ مل کر 1966ء تا 1968 ء کے دوران بڑی لگن سے درمین فارسی کی کتابت وغیرہ کی غلطیوں سے پاک کر کے دوبارہ شائع کیا۔مکرم عبدالحق رامہ صاحب کو قرآن سے بہت محبت تھی کوئی دس سال کی محنت شاقہ کے بعد آپ نے قرآن کریم کے تمام الفاظ کی معنوی اور گرائمر کے اعتبار سے ایک ضخیم فہرست تیار کی تھی۔آپکی عمومی صحت بہت اچھی تھی اور کم ہی کبھی بیمار پڑتے تھے۔جوانی میں خوب ورزش کرنے کا شوق تھا۔جسم اکہرا لیکن بہت کرتی اور مضبوط تھا۔اعلیٰ درجے کے پیراک بھی تھے۔(V) ย