درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 65 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 65

۶۵ ان اشعار کے حسن اور خوبیوں کے متعلق کیا کہا جائے، کیا نہ کہا جائے۔حضرت اقدس نے تو اپنا کلیجہ نکال کر کاغذ پر رکھ دیا ہے، کلیجہ بھی ایساجو عشق الہی سے سرشار اور رموز معرفت کا راز داں ہے۔ان اشعار کی فصاحت و بلاغت دیکھئے۔مگر خدا را فصاحت و بلاغت کے اصطلاحی فنون کی تلاش میں نہ لگ جائیے، کہ یہاں کیسا استعارہ ہے۔اور وہاں کون کون سے صنائع بدائع ہیں۔سب کچھ ہے، مگر اس طرف توجہ کرنے سے اصل مطالب نظر انداز ہو سکتے ہیں۔لہذا فصاحت و بلاغت کے حقیقی معنوں کے ما تحت ان اشعار پر غور فرمائیے کیسی صفائی ہے۔(سلاست کیسی وضاحت ہے (فصاحت، کس طرح دل میں اتر سے جاتے ہیں۔(بلاغت ) ہر شعر ایک بے داغ ہیرا ہے۔ایک چمکتا ہوا موتی ہے۔غرض نظم کیا ہے، معافی کا ایک دریا ہے، جو تیزی سے بہتا چلا جارہا ہے۔فرمایا :- (1) اس پر وردگار عالم ، گرنی بار خدا کی تعریف اور شکر ہے جس کے وجود سے باقی سب وجود ظاہر ہوئے (۲) یہ جہاں اس کے رخ مبارک کے آگے گویا خادم کی طرح آئینہ لئے کھڑا ہے۔بلکہ ذره ذرہ اپنی ذات کے عجائبات کے ذریعہ) اس کی رہنمائی کر رہا ہے (۳) وہ زمین و آسمان کے آئینہ میں اپنے بے مثل چہرے کے جلوے دکھا رہا ہے (ہم گھاس کا ہر تنکا اس کی بارگاہ سے متعارف کراتا ہے۔اور درختوں کی ہر شاخ رہاتھ کی مانند اسی کی راہ کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔(۵) سورج اور چاند کی روشنی اُسی کے نور کی مرہون منت ہے اور ہر چیز کا ظہور اسی کے فرمان کے ماتحت ہے (ہ) بر سر اس کی بارگاہ یکتائی کا ایک ناقابل فہمہ عجوبہ ہے۔ہر قدم اسی کے با عظمت دروازہ کی تلاش میں لگا ہوا ہے رہ شخص کی دلی مراد اسی کے چہرہ کے جمال کا دیدار ہے اور اگر کوئی شخص راستہ بھول گیا ہے تو اس کی گلی ڈھونڈتا ہوا بھولا ہے (۸) اسی نے سورج ، چاند ستاری اور زمین کو پیدا کیا اور دوسری لاکھوں کاریگریاں ظاہر کی (4) بی سب دستکاری اُسی کے کاموں کی کھلی کتاب ہے جسمیں لیے انت بھی میں نے یہ کتاب اسلئے ہماری آنکھوںکے سامنے رکھی ہے تاہم اسے وی اس تک پہنچنے کا آباد کرلیں :