درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 23 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 23

لوازمات پر خیال پھیلا نے شروع کر دئے نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اصلیت بالکل نہ رہی بلکہ خیال ہی خیال رہ گئے جن کا وجود یا وقوع ناممکن اور محال ہے۔“ شبلی نعمانی رقمطرانہ ہیں :۔دسخندان فارس ص۵۲) صنائع بدائع شاعری کے زوال کا پیش خیمہ ہیں۔اس لئے فردوسی کے کلام میں اس کو ڈھونڈنا نہیں چاہیے۔لیکن جو محاسن شعری ضمنا کسی صنعت میں آجاتے ہیں اس کے کلام میں بھی پائے جاتے ہیں۔اور اعلیٰ درجہ پر پائے جاتے ہیں۔دشعر العجم حصته اول ط ) گویا فردوسی نے اپنے کلام میں خود صنائع بدائع لانے کی کوشش نہیں کی تھی۔بلکہ اس کے بلیغ کلام میں وہ خود بخود آتے گئے تھے۔مولانا رومی لکھتے ہیں :۔باید دانست که نظر بدخواه همواره مقصود به تحسین معانی بوده است و صنائع را اند قبیل تصنع مد عمل پنداشته اند و قطع نظر از منع آن که در آثار وارد شده تصنع کلام بلیغ را از پایه باخت فرود افگند و از قدمائے فصحاء ہیچ کس بگرد این نوع اسلوب کلام نه گرویده - چنانکه بر ناظر کلام اساتذه قدیم مخفی نیست - واگر احیانا در کلام ایشان چیز سے ازین نوع یافته شود آن را به استرخا عنان طبیعت حمل باید کرد تصنع را دران راه نیست ابا اہل عجم در اواسط قرون بدین منجار مائی شده در اختراع انواع صنائع سعی بلیغ جائز داشتند تا نمایے که ابراء صنائع را در کلام منثور و منظوم از قبیل کمالات فن شعر و انشاء گمان برده اند یه (دبیر عجم ) یعنی جاننا چاہیے کہ ارباب بلاغت ک توجہ ہمیشہ حسن معانی پر مرکوز رہی ہے۔اور کلام میں