درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 319 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 319

۳۱۹ نمبر شمار نام شاعر ۲۲۲ اشعار سعدی حضورش پریشیان شد و کار زشت به سفر کرد و برطاق مسجد نوشت اس کا سکون ختم ہوگیا اور معاملہ بگڑ گیا ، تب وہ وہاں سے کوچ کر گیا اور سجد کی ہوا ہے کچھ گیا۔در آئینہ گر روئے خود دید می به بیدانشی پرده ندارید مے " ۲۴۳ کہ اگر میں آئینہ میںاپنا منہ دیکھ لیتا ، تو بیوقوفی سے اپنا پر وہ نہ پھاڑتا۔(ضمیمه بر این احمدیہ حصد نجم ) ۲۲۴ نامعلوم آن ترک عجم چوں بہ مئے عشق طرب کرد : غارت گریئے کوفہ و بغداد و طلب کرد وہ بھی معشوق جب عشق کی شرار سے سرشار ہو گیا تو اسی کو نہ، بغداد اور حلب سب کو لوٹ لیا۔۲۴۶ ۲۲۷ ۲۳۸ " سعدی صد لالہ رخے بود بعد حسن شگفته نازان همه را زیر قدم کرد عجیب کرد سینکڑوں سرخ پھولوں جیسے چہروں والے حسین پھولوں کی طرح کھلے ہوئے تھے ، اُس نے ناز سے سب کو مات کر دیا عجیب کام کیا۔صورت گر دیجائے چین کو توتر زیباش ہیں : یا صورتی روکش چنیں یا تو بہ کن موتور گری اسے چینی منقش کپڑے کے معصور جا اس کی خوبصورت شکل دیکھ، یا ویسی ہی تصویر بنا یا مصوری سے تو بہ کر ہے۔ضمیمه با این حمدیہ حصه نیمه ها) نامعلوم بوقت صبح شود همچو روز معلومت به که با که یاخته عشق در شب دیجور صبح کے وقت تیرے متعلق دن کی طرح روشن ہو جائے گا ، کہ اندھیری رات میں کس " کے ساتھ تو نے عشق کا کھیل کھیلا ہے۔من ایستاده ام نیک تقسیم بیا بشتاب + که تا سیاه شود روئے کا ذب مغرور میں تو یہ کھڑا ہوں تو کبھی جلد آجا ، تا جھوٹے مغرور کا منہ کالا ہو۔(مکتوبات احمدیہ جلد سوم جن)