درثمین فارسی کے محاسن — Page 10
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں؟ وہ ہر چھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں وہ شاعر اپنے کان رآسمان کی طرف) لگائے رکھتے ہیں۔اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔رہی وجہ ہے کہ گمراہ لوگ ہی شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔(اے مخاطب کیا تو نہیں سمجھ سکتا کہ شعراء تو ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ہاں اُن کے سوا ایسے شاعر بھی ہیں جو مومن ہیں اور نیک عمل بجالاتے ہیں۔اور (اپنے شعروں میں اللہ کا بہت ذکر کرتے ہیں۔اور اگر ہجو کرتے ہیں تو ابتدا نہیں کرتے بلکہ مظلوم ہونے کے بعد جائز بدلہ لیتے ہیں اور ظالم لوگ ضرور ہی جان لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ حضرت اقدس کا کلام اس شاعری کا بہترین نمونہ ہے جسے قرآن کریم نے جائز قرار دیا ہے۔آپ نے اس شاعری کو صرف روحانیات اور اخلاقیات جیسے بلند مقاصد کے لئے استعمال فرمایا اور اپنے شعروں میں خدا ، خُدا کے نبی اور خدا کے کلام کا اس کثرت سے اور اس والہانہ انداز سے ذکر کیا کہ اس کی مثال کسی پہلے یا پچھلے شاعر کے کلام میں قطعاً نہیں مل سکتی اور خدا اور رسول کے ذکر میں عشق و محبت کے رموز و نکات بھی خوب خوب بیان فرمائے۔آپ کے لامی کی مولی سے مولی خلاف اخلاق حسنہ امرکا شانہ نہیں پایا جاتا۔ورنہ فارسی کے شعرا میں سے سوائے چندایک کے باقی سب بڑے بڑے صوفی بزرگ بھی اس مامی نے کراتے ہیں یوٹی کا نام کوہی بیٹے ہیں بعض حکایت اتنی فحش میں کرخدا کی بیاہ ا حتی کہ شیخ سعدی جیسے واعظ بزرگ بھی اس کیچڑ ے اپنا اس بنچا سکے۔یہ شرف صرف حضرت مسیح موعود کو حاصل ہے کہ آپ نے شعر کی بلند ترین چوٹیوں کو چھوڑا لیکن کبھی متانت اور سنجیدگی کے دامن کو نہ چھوڑا۔ہمیشہ صاف ستھر سے الفاظ استعمال فرمائے۔یہانتک کہ دوستی الفاظ سے بھی پر بہتر کیا۔ہاں پنی خداداد فصاحت و بلاغت سے کام لیکر خشک سے خشک مضمونوں کو بھی لذیذ اور رسیلہ بنا دیا۔جیسا کہ آگے آپ کے کلام کے نمونوں سے واضح ہو جائے گا۔