درثمین فارسی کے محاسن — Page 11
کیا اسلام میں شاعری جائز نہیں ؟ بعض لوگوں کا خیال ہے، کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے شاعری نا جائز ہے۔یہ خیال درست نہیں ہے ، کیونکہ اگر متذکرہ بالا آیات کا یہی مفہوم ہوتا تو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے:۔اِنَّ مِنَ الشَّعْرِ حِلْمَةً (مشکوۃ باب البیان والشعر العنی شعر میں بھی دانائی کی باتیں ہیں۔اور نہ حسان بن ثابت شے کو کفار کے مقابلہ میں ہجو کی اجازت مرحمت فرماتے ! رُهُمُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلِ مَعَكَ ---- أَجِبْ عَنِي اللهُمْ آيَدُهُ بروح القدس - (مشكوة باب البيان والشعر) - اسی طرح کعب بن زبیر نے اپنا قصیدہ پیش کیا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند فرمایا اور اپنی چادر اُسے عنایت فرمائی۔ایک اور روایت میں ہے:۔" عن عمر و بن الشريد عن ابيه قال رد فتُ رسول الله صلى الله عليه وسلّم يوما فقال هل معك من شعر امية بن الصلت من شئ قلت نعم قال حبه فانشدته بيتا فقال هيه ثم انشدته بيتا فقال هيه حتى انشدته مائة بيت (مشكوة باب البيان والشعر) یعنی عمرو بن شرید نے اپنے باپ سے روایت کی ہے۔کہ ایک دن میں کسی سواری پر رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا تھا۔آپ نے دریافت کیا کہ کیا تجھے امیہ بن ابی الصلت کے کچھ ه اینی مشرکوں کی ہجو بیان کہ اس کام میں یقینا جبرئیل تیرے ساتھ ہے۔۔۔میری طرف سے مشرکوں کو جواب ہے اسے خدا ! روح القدس سے اس کی مدد فرما۔