درثمین فارسی کے محاسن — Page 304
ام عليكم به شمار نام شاعر ۱۱۲ ۱۱۴ سعدی نہیں دیکھ سکتا۔اشعار دالحکم اور جولائی بشه ) اگر در ویش بر یک حال ماند سے : سردست از دو عالم برفشاند سے اگر کسی درویش کی حالت ہمیشہ ایک جیسی رہے ، تو وہ دونوں جہانوں سے ہا تھ جھاڑ اُٹھے۔الحکم ۱۰ نومبر ) امیر خسرو من به شدم تو من شدی من من کم توجاشدی به تاکس نگوید بعدازی من دیگرم تو دیگری توان ان روایات نوید من دیگرم یکی تو بن گیا تومیں بن گیا ہیں تن بنا و جان بن گیا۔تابعدمیں کوئی یہ نہ کہ سکے کہیں کوئی اور ہوں اور تو کوئی اور ہے۔(الحکم، در تمبر انشاه) نامعلوم صیقل دوم آنقدر کا گینه نماند ترجمہ میں نشہ کو چلانے کےلئے اتارگرا کر شیشہ ہی نہ رہا۔سعدی " که پیش از پدر مرده به ناخلف - ترجمه : ناخلف بیٹے کا باپ سے پہلے مر جانا ہی بہتر ہے۔دالحکم ۲۴ ستمبر انشاه و خوشستن گر است کرا رهبری کند - ترجمہ: وہ تو و ہی گاہ ہے کسی کی کیا رہبری کریگا۔۱۱۵ مولانا روم نام احمد نام جمله انبیاست چون باید صد نو دهم پیش است : احمد کا نام سب نبیوں کے نام کا مجوعہ ہے، جس کو اندر گیا تو وے بھی ہمارسامنے ہے۔حافظ چه خوش ترانه زد آن مطر مقام شناسی که در میان غزل قول آشنا آورد اس موقع شناس گویے نے کتنا چھا اگایا، کرغزل کے اندر محبوب کی بات بھی لے آیا۔114 (الحکم ۱۲۴ اپریل بشه) نامعلوم بان مشو مغرور بر حلم حندا : دیرگیر د سخت گیرد مرتبرا خبر دار خدا کی بردباری پرت اترانا ، وہ پکڑتا تو دیر سے ہے مگر سخت پکڑتا ہے۔(الحکم ۲۴ جون شاه)