درثمین فارسی کے محاسن — Page 300
نمبر شمار نام شاعر A۔اشعار مولانا روم پر بلاکیں قوم را حق داده است به زیر آن گنج کرم بنهاده است ہر را حتی ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لئے مقصد کی ہے ، اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ اشتهار ۲۰ستمبر شد از مشموله راز حقیقت) " " Ar AD AY نا معلوم کر کے سعدی چھپا رکھا ہے۔اوپو کل و تو چو جزئی نے کلی : تو ہلاک استی گراز مے سے بگسلی وہ (امام الزمان) کل کی طرح ہے اور توجز و کی مانند ہے کلی نہیں ، اگر تو اس سے تعلق توڑے تو سمجھ کہ ہلاک ہو گیا۔ضرورت الامام صا) آل دعائے شیخ نے چوں ہر ماست : خانی است و دست او دست خداست اس بزرگ کی دعا کسی اور دنیا کی طرح نہیں ہوتی ، وہ فانی فی اللہ ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے۔ضرورت الامام صلا) پندست گوش کن که روی از عذاب درد به فرستنده کس که بیند خردمند گوش کرد یہ ایک نصیحت ہے غور سے سُن تاتو دکھ اور درد سے نجات پائے ، مبارک ہے وہ شخص جو کسی عقلمند کی نصیحت پر کان دھر ہے۔(ایام الصلح ص) عزیزان بے خلوص صدق نگشایند را ہے را نو مصفا قطره باید که تاگو ہر شود پیدا اسے عزیز و اصدق اور راستی کے بغیر راستہ نہیں کھلتا ، مصفا قطرہ چاہیے تا موتی بن جائے۔- از اراد نام محصہ دوم شد) و (در ثمین ) گر جان طلبد مضایقه نیست : زر می طلبد سخن درین ست اگر محبوب جان مانگے تو کچھ پرواہ نہیں ، مشکل یہ ہے کہ وہ مال مانگتا ہے۔(مجموعه اشتهارات حصہ پنجم ۴۲۵) مرد باید که گیر داندر گوش و گرنوشت ست پند بر دیوار