درثمین فارسی کے محاسن — Page 301
۳۰۱ نمبر شمار نام شاعر ^^ 4- ۹۱ ۹۲ سعدی " نظامی استعار آدمی کو چا ہیئے کہ کان مں ڈال لے، اگرچہ وہ نصیحت دیوار پر ہی کیوں نہ کھی ہو۔دالحکم و اگست نشده) گاه باشد که کودک نادان بغلط پر ہدف زند تیرے کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کو کوئی نادان لڑکا بھی اتفاق سے کوئی تیر نشانے پر لگالیتا ہے۔الحکم ۱۷ اپریل ) جمال منشی در من اثر کرد وگرنه من یہاں خاکم کہ ہستم میرے ساتھی کا حسن مجھے میں سرایت کر گیا ہے ، ورنہ میں وہی مٹی کی مٹی ہوں۔الحکم ۲۴ مئی بشه سرا بمرگ عدو جائے شادمانی نیست : که زندگانی مانیز جاودانی نیست میرے لئے دشمن کی موت خوشی کی بات نہیں کیونکہ ہماری زندگی بھی تو ہمیشہ کےلئے نہیں۔(الحکم - ر ا پریل به شداری) که زر زر کشد در جهان گنج گنج بہ ترجمہ: دنیا میں سونا سونے کو اور خزانہ خزانہ کوکھینچتا ہے۔دالحکم ، ۱ را پریل ۶) سعدی کس ندیدم که گم شد از ره راست با ترجمه دین نے کسی شخص کو سیدھے راستر پر چلتے ہوئے گم ہوتا نہیں دیکھا۔دالحکم ۲۳ را پریل بهشته حافظ " ۹۳ به بین تفاوت رو از کجاست تا بکجا : ترجمہا دکھی راستہ کافر کہاں سے کہاں تک ہے؟ دالحکم بر جنوری نت شاه) پیداست ندا را که بلند ست جنابت : ترجمہ: اوانہ سے ظاہر ہے کہ تیری بارگاہ بہت (الحکم اور میر نشده) بلند ہے۔