درثمین فارسی کے محاسن — Page 7
ایک اور بزرگ لکھتے ہیں اگر شعر کے معنی ہیں جیسے فراست اور درست فکر اور استدلال سے مفہوم کلام کو پانا ، اور اصطلاح میں اس کلام کو کہتے ہیں جو سوچ بچار کر کہا جائے ، یا معنی ہو ، وزن اور قافیہ رکھتا ہو۔ایک فاضل نے کہا ہے : إِنَّهُ نَفَتَةٌ رُوحَانِيَّةٌ تَتَمَزَّجُ بِأَجْزَاءِ النُّفُوسِ وَلَا تَحُصُّ بِهِ مِنْهَا غَيْرُ النُّفُوسِ الذَّكِيَّةِ - یعنی القائ وحانی جو دل کے گوشوں میں گھس جاتا ہے، لیکن تیز فہم شخص کے سوا اسے کوئی محسوس نہیں کر سکتا۔اسی طرح ایک اور بزرگ نے کہا ہے : الشَّعْرُ قَوْلُ يَصِلُ إِلَى الْقَلْبِ بِلا إِذْنِ یعنی شعر ایسا کلام ہے جو بلا اجازت دل میں اتر جاتا ہے۔(ماخوذ انہ دبیر العجم منش) ان مختلف اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ شعر وہ کام ہے جس سے شاعر کے جذبات اور احساسات کا پورا پورا اظہار ہوتا ہے ، اور جو سینے والے کے دل پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔اسے بالا رادہ ایسے اوزان پر موزوں کیا جاتا ہے جو ترنم کے لئے منسب ہوں کیونکہ ترنم بھی کام کے تاثر کو بڑھانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً (المزمل: ۵) یعنی قرآن کو تر غم کے ساتھ پڑھو۔قافیہ شعر کا جزولاینفک نہیں۔البتہ پہلے اکثر اس کا التزام کیا جاتا تھا۔جس نظم میں قافیہ کا التزام نہ ہو ا سے آزاد نظم کہتے ہیں۔اور آج کل اسکا بہت رواج چل نکلا ہے۔اسی طرح قافیہ کے ساتھ روی کا ہونا بھی ضروری نہیں۔یہ اہل فارس کی ایجاد ہے۔عرب شاعری میں اس کا رواج نہیں تھا۔شعر کی مذکورہ بالا تعریف سے ظاہر ہے کہ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے ، جو دوست ودشمن دونوں کو کاٹ سکتی ہے۔شعر اخلاق حسنہ پر بھی ابھارتا ہے اور اخلاق رذیلہ پر بھی اکساتا ہے چنانچہ مولانا شبلی نعمانی سکھتے ہیں :۔شریفیانہ اخلاق پیدا کرنے کا شاعری سے بہتر کوئی الہ نہیں ہو سکتا۔علم اخلاق ایک مستقل فن ہے۔اور لہ منہ کا جزو اعظم ہے۔ہر زبان میں اس فن پر بہت سی کتابیں لکھی گئی