درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 6 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 6

i خوشنما ثابت کی جائے جس سے محبت اور غضب کی قوتیں مشتعل ہو جائیں یہ یہ تعریف بھی کچھ اچھی نہیں۔چنانچہ یہی بندگ آگے چل کر لکھتے ہیں۔شعر العجم حقه اقول انت با شعر د جیسا کہ ارسطو کا مذہب ہے ، ایک قسم کی مصوری یا نقالی ہے۔فرق یہ ہے کہ مصور صرف مادی اشیاء کی تصویر کھینچ سکتا ہے۔بخلاف اس کے شاعر ہر قسم کے خیالات ، جذبات اور احساسات کی تصویر کھینچ سکتا ہے۔ایک شخص کا عزیز دوست جُدا ہو رہا ہے۔اس حالت میں جو اس پر صدمے گذرتے ہیں اور دلدوز خیالات کا جو طوفان اس کے دل میں اُٹھتا ہے شاعر اس کی تصویر اس طرح کھینچ سکتا ہے اور ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی جاتی تو ہی ہوتی جو شاعر نے الفاظ کے ذریعہ کھینچی تھی۔شعر العجم جعته اول ما ) یہی بزرگ درمولن ناشبلی نعمانی ، مزید لکھتے ہیں : - وو شاعر کے لفظی معنی صاحب شعور کے ہیں۔شعور اصل میں احساس (فیلنگ) کو کہتے ہیں یعنی شاعر وہ شخص ہے جس کا احساس قوتی ہو۔انسان پر خاص خاص حالتیں طاری ہوتی ہیں۔تلا رونا، ہنستا، انگڑائی لینا۔یہ حالتیں جب انسان پر غالب ہوتی ہیں تو اس سے خاص خاص حرکات صادر ہوتی ہیں۔رونے کے وقت آنسو جاری ہو جاتے ہیں ہنسی کے وقت ایک خاص آواز پیدا ہو جاتی ہے۔انگڑائی میں اعضاء تن جاتے ہیں۔اسی طرح شعر بھی ایک خاص حالت کا نام ہے۔شاعر کی طبیعت پر رنج یا خوشی یا غصہ یا استعجاب کے طاری ہونے کے وقت ایک خاص اثر پڑتا ہے اور یہ اثر موزوں الفاظ کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔اسی کا نام شاعری ہے “ (شعر النجم حصہ اول ج۳)