درثمین فارسی کے محاسن — Page 283
۳۸۳ - 12 -17 -16 - IA شد ترا این برگ و بار وشیخ و شاب (الهامی) ترجمہ : یہ پل پھول اور بوڑھے اور جو ان سب آپ کے ہو گئے۔444 تذکرہ ملت) چون مرا حکم از پئے قوم سیحی داده اند : مصلحت را ابن مریم نام من به نهاده اند چونکہ مجھے سیمی قوم کے لئے مامور کیا گیا ہے ، اس لئے مصلحتہ میرا نام ابن مریم رکھا گیا ہے۔(کتاب البریه ) پو کا فرشنا ساتر از مولویست : برین مولویت باید گریست جب کا فر مولوی سے زیادہ واقف کا ر ہو ، تو ایسی مولویت پر رونا چاہیئے۔(ضمیمہ انجام آتھم من) خیز تا از درآن یار مرادی طلبیم بر در دوستی بینیم دکشا سے طلبیم اٹھو اس محبو کے در سے اپنی مراد مانگیں ، دوست کے دروازہ پر دھونی رمائی اور کشایش طلب کریں۔(مجموعه اشتہارات حصہ پنجم من۳۵) قدیمان خود را با فزائے قدر (الہامی) ترجمہ : اپنے پرانوں کی قدر بڑھا۔یہ مصرع شیخ سعدی کا ہے) ( تذکره ) ۱۹ - از افترا و کذب شما خون شدست دل داند خدا کہ زمیں غم ویں چوں شدست دل تمہارے بہتانوں اور جھوٹوں سے دل خون ہوگیا ہے ، خدا ہی جانتا ہے کہ اس ولی غم سے مل کی کیا حالت ہوگئی ہے۔هیچم عیان نشد که شما را به کلیه ام زینیسان چرا دلیر و دگرگون شد است دل مجھے کچھ بھی تو معلوم نہ ہو سکا کہ میری دینی پر، تمہارا دل اتنا دلیر اور میرے خلاف کیوں ہو گیا ہے ؟ تحفہ غز نو یہ ص۲۳) -۲۰ ۳۱ حریفی که در شعبه میداشت جاں بیک شنبه از دسے نماند و نشان وہ مخالف جو ہفتہ کے دن زندہ تھا ، اتوار کو اس کا کوئی نشان نہ رہا