درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 5 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 5

شعر کیا ہے ؟ کسی منظوم کلام کا جائزہ لینے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ شعر ہے کیا چیز ؟ شاعری ایک خداداد ملکہ ہے، جو خاص خاص انسانوں کی طبیعت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وداعیت کیا جاتا ہے۔یہ بات ہر کس و ناکسی کے بس کی نہیں۔نہ ہر رنگ بندی کرنے والا شاعر کہلا سکتا ہے اور نہ ہر خود ساختہ شاعر کو قبولیت عامہ حاصل ہو سکتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے :۔الرَّحْمَنُ : عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الإنْسَانَ عَلّمَهُ البَيَانَ ٥ ة (الرحمن : ۲-۵) یعنی وہ رحمن خُدا ہی ہے ، جس نے قرآن سکھایا ہے۔اسی نے انسان کو بنایا اور اسے فصاحت و بیان بخشا " بے شک اس لحاظ سے بھی انسان اشرف المخلوقات ہے۔لیکن اس کے مختلف کمالات اور فضائل کے مظاہر خال خال ہی نظر آتے ہیں۔اسی طرح قوت بیان بھی چیدہ چیدہ افراد کو ہی حاصل ہوتی ہے۔عام طور پر شعر کی یہ تعریف کی جاتی ہے۔وہ کلام موزوں سے متکلم نے بالارادہ موزوں کیا ہوگا یہ تعریف مکمل نہیں کیونکہ شاعری صرف دین اور قافیہ کا نام ہی نہیں مشکل ایسے منظوم با قافیہ کلامہ کو جیسے۔دندان تو جمله در دهان اند چشمان تو زیر ابروان اند شعر نہیں کہہ سکتے۔اسی لئے شبلی نعمانی نے نظامی عروضی سمرقندی کے حوالہ سے لکھا ہے :- " شاعری اس کا نام ہے کہ مقدمات موہومہ کی ترتیب سے اچھی چیز بد نما اور بری چیز ہے تیرے سب انت منہ میں ہیں، اور تیری آنکھیں ابروؤں کے نیچے ؛