درثمین فارسی کے محاسن — Page 265
۲۶۵ -Y یہ خیال رہے کہ شیخ کے ایک شعر میں شکار کرد کا فاعل باز رکیک اور مفعول موشی ہے لیکن حضرت اقدس کے ایک شعر میں صید کیک مفعول اور موسیٰ فاعل ہے۔اور موسیٰ سے مراد حضرت اقدس کی اپنی ذات ہے۔ایک اور جگہ شیخ سعدی فرماتے ہیں : سے رتی بر کشد که میان سے زنم + اول کسے کہ لاف محبت زند منم اس شعر کو بھی حضرت اقدس محبوب حقیقی کی طرف لے گئے اور فرمایا : ہے در کوئے تو اگر سیر عشاق را زنند ؟ اول کسے کہ لاف تعشق زند منم من در ثمین ۱۹۵) شیخ سعدی کے شعر کے پہلے مصرع کے الفاظ مجازی معشوق کے لئے تو بے شک مناسب ہیں لیکن مجبوب حقیقی کے لئے ہرگز موزوں نہیں۔کیونکہ ذات باری تعالٰی کے متعلق یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ تلوار لے کر اپنے محبو کے سر کاٹتا پھرے۔البتہ دوسر سے لوگ ضرور عاشقان صادق ، حتی کہ انبیاء علیہم السلام کوبھی قتل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔لہذا اسی کے مطابق حضرت اقدس نے پہلے مصرع کے الفاظ تبدیل کر لئے۔اسی مضمون کو دوسری جگہ حضرت اقدس نے یوں بیان فرمایا ہے : ے تے تیغ گر بارد بجوئے آں نگار آن منم کاول کند جان را نشار ܀ در ثمین ۲۲۹) ترجمہ اگر تو این لے کریں اپنے جو کے قتل کروں گا، تو اسے پہلے تو ثبت کا دعوی کرے وہ میں ہوں گا۔سے ترجمہ : اگر تیری گلی میں عاشقوں کے سر کاٹے جاتے ہوں، تو سب سے پہلے جو عشق کا دعوی کرے گا وہ میں ہوں گا۔کے ترجمہ : اگر اس محبوب کی گل میں تلوار پر سے تومیں پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان قربان کرے۔