درثمین فارسی کے محاسن — Page 262
عاشق زار در همه گفتار : سخن خود کشد بجانب یاره اور جیسا کہ مشرف جہان نے کہا ہے : نشیند اعلان جنوری منشات ہر اہرام اول دین کیوی پرسم که روی کنیم تا برای درمیانی کنیم یچے ہے جسے کسی سے محبت ہودہ گھما پھرا کر بات کا رخ اسی کی طرف موڑ لیتا ہے۔- شیخ سعدی کہتے ہیں : سے یوسف شنیدام کہ بچا ہے اسیر بود + ویں یوسف که برزین آورده چاه را اس شعر سے شیخ کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نظرنہیں آتا کہ معشوق کے چاہ نہ نخ کا ذکر کیا جائے۔پہلے مصرع والی تلمیح سے بھی کوئی مفید مطلب حاصل نہیں کیا گیا۔تھوڑی پر چاہ زرنیخ پیدا کرنا یا لئے پھر نا بھی ایک متبذل تخیل ہے۔اس کے بالمقابل حضرت اقدس نے ان نقائص کو بھی دور کیا اور اسی چاہ اور یوسف کی تلمیح سے قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے کا کام لیا۔فرماتے ہیں : یوسف بقیر چاہے مجبوس ماند تنها وان یو سفے کرتن یا ز چاه برکشیدی ور ثمین ) پہلے مصرع کا کوئی لفظ زائد نہیں۔اس کی عبارت بھی دوسرے مصرع سے خوب مربوط ہے یوسف ترجمہ: عاشق زار ہر بات کا رخ اپنے محبوب کی طرف پھیر لیتا ہے۔کے ترجمہ یں جہاں جاتا ہوں پہلے سینوں کے متعلق پوچھتا ہوں تاکہ باتوں ہوں یا اپنے شو ، اما برای این کا ذکر ھیروں کے ترجمہ میں نے سنا ہے کہ یوسف کسی کنوئیں کی ترمیں قید تھا۔یہ ایسا یوسف ہے جس کی ٹھوڑی پر کنواں ہے۔ات ایک کنویں کی میں قیدی اور اینویں سے باہرین کایا ؟