درثمین فارسی کے محاسن — Page 261
(۲) کے بغیر کوئی اس پر چل نہیں سکتا لیکن نہ یافتن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر صحیح راستہ مل ہی نہیں سکتا۔دوسری جگہ حضرت اقدس نے اپنے الفاظ میں اسی مضمون کو اور زیادہ پُر اثر طریق پر یوں بیان فرمایا ہے : ہر کہ ہے او زد قدم در بیردین + کرد در اول قدم گم معبر ہے در ثمین مثا) یعنی صرف یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر راستہ نہیں ملے گا۔بلکہ کسی دوسرے مذہب پر کل شروع کرنے والا پہلے قدم پر ہی گرا ہی کے گڑھے میں جاگرے گا۔شیخ سعدی کا ایک اور شعر ہے : پائے در زنجیر پیش دوستان به که با بیگانگان در بوستان نه حضرت اقدس فرماتے ہیں : سے پا به زنجیر پیش دلداری به ز هجران و سیر گزارتے ور ثمین (۲۲) شیخ سعدی نے ایک عام بات کہی تھی۔حضرت اقدس اس پسندیدہ مضمون کو بھی اپنے محبوب کی طرف لے گئے۔جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے : سے سے ترجمہ : جس کسی نے اس محمد صل اللہ علیہ وسلم) کے بغیردین کے دریا میں قدم رکھا تو معلوم ہوگیا کی، اسنے پہلے قدم پر ہی گھاٹ کھو دیا ہے۔کے ترجمہ : دوستوں کے پاس پابند زنجیر رہنا غیروں کے ساتھ باغ میں ہونے سے بہتر ہے۔سے ترجمہ : محبوب کے سامنے پایہ زنجیر رہنا اس کی جدائی میں باغ کی سیر سے بہتر ہے۔