درثمین فارسی کے محاسن — Page 260
یہ بھی خیال رہے کہ آگے جو مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔ضروری نہیں کہ وہ سب اخذ ہی ہوں بلکہ مین مکن ہے کہ ان میں سے بعض محض توارد ہوں اور حضرت اقدس کو کسی پہلے شاعر کے ایسے کلام کا علم ہی نہ ہو۔بہر حال ان مثالوں سے یہ تو واضح ہو جائے گا کہ کسی پہلے شاعر کے کسی خیال کو جب حضرت اقدس نے بیان کیا تو وہ پہلے شعر سے کس قدر بلند یا یہ ہوگیا۔ان اشعار کو یہاں درج کرنے کی غرض کسی قسم کی صفائی پیش کرنا نہیں بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ حضرت اقدس کے کلام کی خوبیاں بیان کی جائیں۔(1) بوستان سعدی میں ہے : نپندار سعدی که راه صف :: توان رفت جز برپئے مصطفیٰ بر ہے حضرت اقدس فرماتے ہیں ے خدائی که جان براه او دا : نیابی رہی جزائے مصطفے ہے در ثمین مثلا) دیکھئے حضرت اقدس نے ایک تو راہ صفا کی جگہ راہ خدا کے الفاظ لا کر شعر کے مضمون کو کس قدر بلند کر دیا ہے۔دوم تلاش کو براہ راست ذات باری تعالیٰ سے مخصوص کر کے شعر کا رتبہ اور بڑھا دیا ہے۔اور سوم رفتن کی جگہ یا فتن لاکو شعر کو حقیقت کے زیادہ قریب کر دیا ہے شعر کی غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسروں کی پیروی میں فرق ظاہر کرتا ہے۔یہ فرق جتنا زیادہ ہوگا ، شعر اتنا ہی زیادہ بیغ ہوتا جائے گا۔رفتن کی بجائے یافتن میں مقصد سے زیادہ دوری پائی جاتی ہے۔رفتن سے معلوم ہوتا ہے کہ راستہ مل چکا ہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیری لے ترجمہ : اے سعدی تو یہ مت سمجھ کر راہ راست پر صطفی کی پیروی کے بغیر چلا جا سکتا ہے۔ترجمہ : وہ خُدا جس پر ہماری جان قربان ہے ، اس کا راستہ مصطفے کی پیروی کے بغیر نہیں پا سکتا۔