درثمین فارسی کے محاسن — Page 259
۲۵۹ (لم) دیکھئے مولانا روم نے اپنی غزل کے ہم قافیہ بنانے کے لئے پہلے مصرع میں تھوڑی سی تبدیلی کرتی ہے۔فغانی کا مشہور شعر ہے : بوت مسجدم گریان نگاشت چین رفتیم بے بنیادم رائے پر لائے گل و از خواشتی رفتی میرزا صائب نے اسے یوں بدل لیا : بوریت محمدم گریان پوشیم در چین رفتم با نهادم روئے بوئے گل دار خوشی رفتیم یہاں صرف پہلے مصرع میں تھوڑی سے تبدیلی کر کے یعنی شینم کی تشبیہ لا کر شعر میں جان ڈالدی اور دعوای دریعنی پہلے مصرع کے مفہوم کو پورا کر دیا۔(۳۴) خواجہ حافظ کی ایک غزل کا مطلع ہے : زباغ وصل تو یا بد ریاض رضوان آب زرتاب ہجر تو دارد شرار دوزخ تابلے یہ شعر بغیر کسی تفاوت کے لفظ بلفظ سلمان ساوجی کے دیوان میں موجود ہے۔اور یہ دونوں بزرگ ہمعصر تھے۔پس اخذ و اقتباس بڑے سے بڑے شاعروں کے کلام میں بھی پایا جاتا ہے۔اور یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔بلکہ جیسا کہ قبل ازیں ذکر کیا گیا ہے مستحسن اور لازمی ہے حضرت اقدس کے کلام سے اس کی مثالیں اس لئے پیش کی جارہی ہیں ، تا آپ کے کلام کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جاے اور یہ دکھایا جائے کہ آپ نے گذشتہ اساتذہ کے کلام میں کس کس طرح اصلاح فرمائی اور ان کے کلام کے پسندیدہ ٹکڑوں کو اپنے کلام میں جگہ دیگر کس طرح ان کی عزت افزائی کی ہے۔ے ترجمہ صبح کے وقت تیری خوشبو کی تواس کے لئے روتا ہو ایک باغ کی سیر ی میں چھو کے من پرانا مندرکا اور بیخود ہوگیا۔ترجمہ صبح کے وقت تیری خوشبو کی تلاش کیلئے راہو میں نیم کی طرح ان میں یا پھل کے منہ پرانا نہ رکھا اور خود ہوگا۔کے ترجمہ تیرے ہیں کے باغ سے بہشت کاچین پانی میں کرتا ہے، اور تری جای کی جی کی وجہ دوزخ کی چنگاریوں میں کی گری ہے۔