درثمین فارسی کے محاسن — Page 258
Fox تسع جدا لا يقدر أحد من الشعراء ان يدعى السلامة منه (۳ )۔یعنی سرقات شعریہ کا باب (دروازہ )۔ایک ایسا باب ہے جیسی ہر ایک شاعر کو گذرنا پڑتا ہے۔اور کوئی شاعر ایسا نہیں جو اس سے کبھی نہ گذرنے کا دعوی کر سکے اور اپنے کلام کو لیکلی اس سے خالی کر سکے کہ (تنویر الابصار ص ۳) یہی وجہ ہے کہ شعرا کے تذکروں کی کتابیں ان کے کلام کا آپس میں مقابلہ کرنے سے بھری پڑی ہیں لیکن کوئی کسی پر سرقہ کا الزام نہیں لگا تا حالا نکہ بعض شعرا کے کلام میں دوسرے شعراء کے پورے مصرعے بلکہ بعض دفعہ تو پور سے شعر تک پائے جاتے ہیں اور تبصرہ ان کے کلام کے حسن و قبح کے پرکھنے تک محدود رکھا جاتا ہے۔الا کہ کبھی حسد یا تعصب کسی کے دل میں راہ پائے۔(۲) خاکسار بغرض اختصار ایسے توار دیا اخذ کی چند مثالوں پر اکتفا کرے گا :- مولانا روم فرماتے ہیں : ندان شیرم که با دشمن برایم با مردان به که من با خود بر آنیم آکی با به که پہلا پورا مصرع نظامی گنجوی کا ہے۔مولا نا نظامی کی ایک غزل یوں شروع ہوتی ہے : مرا پرسی که چونی چونم ای دوست + جگر پر درد و دل پر خونم ای دوست مولانا روم کہتے ہیں : سے هرا پرسی که چونی ہیں کہ چونم : خراہم بے خودم مست جنون کے جنونم ل ترجمہ: میں ایسا شیر نہیں ہوں کہ دشن پر غالب ہوئی، میرے لئے ہی بہتر ہے کہ اپنے آپ پر غالب آجاؤں۔ترجمہ : تو مجھ سے پوچھتا ہے کہ اسے دوست تو کیسا ہے ، میرا یہ حال ہے کہ جگر در دستے اور دل خون بھرا ہوا ہے۔سے ترجمہ تو مجھ سے پوچھتا ہے کہ تو کیسا ہے، دیکھ کیسا ہوں ، مدہوش ہوں ، یہوش ہوں ، دیوانہ مست ہوں۔