درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 257 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 257

۲۵۷ وكذالك ان قلبه او صرفه عن وجه إلى وجه آخر فأما إن لا ساوى المبتدى فله فضيلة حسن الاقتداء ولا غيرها- جلد ثاني تمام مومن کسی کلام پر اخذیا کی اخذ پر عیب لگانے سے قبل بہت سے پہلو رکھنے ضروری ہوتے ہیں۔د تنویر الابصار ص ۳-۳۴) علامه ابن رشيق العمده (جلد دوم ۲۵ ) میں لکھتے ہیں لست تحد من جهابذة الكلام ولا من نفاد الشعر حتى تميز بين أصنافه وأقسامه و تحيط علما برتبه ومنازل یعنی کوئی شخص منقد شعر نہیں کہلا سکتا جب تک کہ اسے اخذ کے تمام اقسام و اصناف اور اس کے مراتب و ملاخ کے متعلق وسیع علم اور گہری واقفیت نہ ہو۔پھر رکھتے ہیں کہ اتکال الشاعر علی السرقة بلادة وعجز وتركه كل معنى سُبقَ إِليه جَهْلُ ولكن المختار له عندي وسط الحالات (جلد ثانی طلا، یعنی اگر کسی شخص کی شعر گوئی کا سارا داره و مدار اخذ و سرقہ پر ہو تو اسے شاعر مت سمجھو، بلکہ وہ شعر کہنے سے عاجز اور کوڑ مغز ہے۔اور ایک شخص اس پہلو کو بالکل ہی چھوڑ ہوئے ہے اور پہلے نامی شعراء کے کلام سے کہیں بھی اخذ نہیں کرتا تو وہ فن شعر سے بالکل بے خبر اور جاہل ہے۔نیز علامہ موصوف لکھتے ہیں : هذا باب البقیہ تری صفحہ : وہ اسے ختم کرکے مجمل ہو تواس کھول سے، ناقابل فہم ہوتواسے واضح کرے پھسپھسا ہو تو اسے عمدہ کلام کی شکل میں لے آئے۔وزن خراب ہو تو اسے درست کرنے تو وہ پہلے شاعر کی نسبت اس کلام کا زیادہ حق بن جاتا ہے۔اسی طرح اگراسمیں کچھ تبدیلی کرے یا اسکا رخ ایک طرف سے دوسری طرف پیسے تب بھی زیادہ تھی ہوگا اور اگر اسکا کلام پہلے شاعر کے کلام سے برابر ہوتواسکے لئے عمدگی سے پیڑی کو نکی فضیلت ہے نہکہ کچھ اور (یعنی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔