درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 256 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 256

PAY اس کے اپنے کلام پر نظرکرنے سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خود ویسا ہی کلام یا است بھی بڑھ کر کہ سکتا ہے کیونکہ ایسا ثابت ہو جانے کی صورت میں اس کے اخذ کو قابل گرفت یا عیب نہیں قرار دیا جا سکتا۔چنانچہ ابن رشیق عمده (جلد ثانی من ۲۳) میں لکھتا ہے : والشاعر يستوجب البيت والبيتين والثلثة وأكثر من ذانك إذا كانت شبيهة بطريقة ولا بعد ذالك عيبا لأنه بقدر على عمل مثلها ولا يجوز ذائك الا للحاذق المبزرة (۲) اخذہ کا قول (جس میں اس نے کچھ تصرف بھی کر لیا ہے) رتبہ میں ماخوذ عنہ کے قول سے بڑھ کر یا اس کے برا بر تو تو نہیں ہے کیونکہ اگر اس سے بڑھ کر ہو یا اس کے مساوی ہو تو اس پر نہ صرف اعتراض د نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مستحق تعریف ہے۔افضلیت کی صورت میں تو اس لئے کہ وہ اسے پہلے سے بھی بہتر بنا دینے کی وجہ سے خود بدرجہ اولیٰ اس کا مستحق ہو گیا ہے۔اور مساوات کی صورت میں اس لئے کہ اسی پہلے کلام کو عمدگی سے اپنے کلام میں ملالیا اور ٹھیک طور پر حسب موقعہ و محل اسے اپنے استعمال میں لاسکا اورلایا۔چنانچہ العمدة میں ہے : ان المتبع اذا تناول معنى فأجاده بان يختصره إن كان طويلاً او يبسطه ان كان كذا او بينه إن كان خامصًا او يختار لَهُ حَسَن الكلام إن كان سفسافاً أو رشيق الوزن إن كان جافيًا هوا ولى به من مبتدعة : اور کبھی کبھی کوئی شاعر ایک یا دو یاتین شعر یا اس سے زیادہ شعر کسی دوسرے شاعر کے کلام سے) لے لیتا ہے جب کہ وہ اس کے اپنے طرز کلام کے مشاہرہ ہوں۔اور یہ عیب نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہ ایسے شعر کہنے پر قادر ہوتا ہے لیکن یہ امرکسی نیز فہم اور ماہر فن شخص کے سوا کسی اور کے لئے ، جائز نہیں ہے۔سے کوئی شاعر اپنے سے پہلے کسی شاعر کے کلام سے کوئی معنی اخذ کر سے، تو اگر وہ کلام زیادہ طویل ہو اور