درثمین فارسی کے محاسن — Page 246
۳۴۶ اگر چہ رو کے لئے درکا صلہ آتا ہے ، لیکن با کے آجانے سے اس کی ضرورت نہیں رہی تھی۔لہذا حضرت اقدس نے اس کی جگہ اضافت لاکم وزن پورا کر دیا جس سے الفاظ محاورہ کے مطابق ہو گئے اور شعر زیادہ فصیح ہو گیا۔بر و ا منکر انجام کن اسے خوی : از سعدی شنوگر زمن نشنوی عروسی بود نوبت ما تمت : اگر بر کوئی بود خاتمته ور ثمین ۳۹۵) دوسرا شعر شیخ سعدی کا ہے۔اور اس سے پہلے شعر میں اس طرف اشارہ موجود ہے۔خاکسار کے پاس بوستان کا جو نسخہ ہے، اس میں یہ شعر یوں لکھا ہے : ہے عروسی بود نوبت ما تمت : گرت نیک روزسے بود خاتمیت سے یا تو بوستان کے اس نسخہ یں سہو کتابت سے اگر بکوٹی کی جگہ گرت نیک روزسے لکھا گیا ہو۔اور حضرت اقدس نے جس نسخہ میںیہ شعر ملاحظہ فرمایا ہو۔اس میں اسی طرح لکھا ہو گا جیسے آپ نے نقل کیا ہے۔لیکن زیادہ قرین قیاس یہ ہے۔کہ آپ نے خود اس شعر میں تصرف کیا ہو۔کیونکہ کسی خوش قسمت یعنی مبارک دن میں مرنے سے نیکی پر خاتمہ ہونا بہت بہتر ہے۔خاتمہ بالخیر کے معنی خاتمہ بز کوئی ہی ہوتے ہیں۔اور عروسی بود خا تم سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ نیک روز سے بود خاتمت کا کنایہ خاتمہ بالخیر کی طرف رہی ہے ، تو الفاظ اس کے متحمل نہیں۔کیونکہ مبارک دن نمونا جمعہ کو کہتے ہیں اور ترجمہ : اے گمراہ شخص جا اور اپنی عاقبت کی فکر کر، اگر تومیری بات نہیں سنتا تو سعدی کی بات ہی شن ہے ، کہ تیرے ماتم کا وقت شادی بن جائے، اگر تیرا خاتمہ نیکی پر ہو : سے ترجمہ : تیرے ماتم کا وقت شادی بن جائے ، اگر تیرا خاتمہ کسی مبارک دن میں ہو ی