درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 242 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 242

تضمين اب حضرت اقدس کے کلام میں تضمین کے نمونے ملاحظہ فرمائیے۔بعض جگہ آپ نے مستعار شعر کے ماخذ کا ذکر کر دیا ہے ، اور بعض جگہ ایسا ذکر نہیں کیا۔دنیائے سخن میں یہ دونوں صورتیں رائج ہیں۔خصوصا جب مستعار شعر نظم کے آخر میں ہوں تو عموما اس کے ماخذ کاحوالہ نہیں دیا جاتا۔نے نماید بطالبان رو راست : راستی موجب کنائے خداست -1 -t در ثمین ) دوسرا مصرع شیخ سعدی کا ہے۔لیکن یہ ضرب المثل بن چکا ہے۔اس لئے ماخذ کا حوالہ دینے یہ۔لئے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وه چه خوب است این اصول کبری : یادگار مولوی در مثنوی! زیر کی ضد شکست است و نیاز : زیر کی بگذار و با گولی بساز زانکه طفل خورد را مادر نهار : دست و پا باشد نهاده در کنایه د ثمین صنت ) سے ترجمہ : طالبوں کو راہ راست دکھاتا ہے ، اور راستی خدا کی رضا کی موجب ہے۔سے ترجمہ : واہ وا ا سلوک کا یہ اصول کیسا عمدہ ہے، جو مثنوی میں مولوی رومی کی یادگار ہے۔عقلمندی کمزوری اور عاجزی کی ضد ہے ، پس تو چالا کی چھوڑ اور سادگی اختیار کر، کیونکہ چھوٹے بچے کے ہاتھ پاؤں کو ماں دن بھر گود میں لئے پھرتی ہے۔(اسی طرح تجھے خدا گود میں لے لے گا)