درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 236 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 236

^ - جز بپا بندی حق بند دگر : در ند گیرد با خدائے اکبرے انی یکے از دریان دلدار سے بہ نکتہ ہائے شنید و اسرار ہے و آلی دگر از خیال خود بگماں : پس کجا باشد یی دوکس یکساله در تمین منت ) در ثمین صسلام تا بر دلم نظرت از مهر ماه مارا کر دست سیم خالص قلب سیاه بار ہے ۱۵۱ دور ثمین مادام یہ ہے تو صنعت طباق بطور کنایہ کی مثال کیونکہ سیاہ کا تقابل سفید رنگ سے ہے۔جو سیم خالص کو لازم ہے۔لیکن اس شعر میں مزید خوبی یہ ہے کہ اس میں سختی کا تقابل رجو قلب سیاہ کو لازم ہے) نرمی سے بھی ہے۔جو سیم خالص کا ایک خاصہ ہے) اور قلب سید یعنی ایک ردی چیز کا تقابل ایک قابل قدر چیز یعنی خالص چاندی سے بھی کیا گیا ہے۔۔اسی طرح حسب ذیل شعر میں " دور“ کے لفظ کے دونوں جگہ دو دو معنی ہیں : دور موت آمد قریب اسے غافلان فکرش کنید : دور سے تا کے بخوبان لطیف و مہ جبین نت ۱۵۵ در این شه) لہ ترجمہ اسچائی کی پابندی کے سوا کوئی دوسرا بند من الہ تعالی کے ہاں قابل قبول نہیں (در گرفتن کے معنی ہیں) ایک تو وہ ہے، جو محبوب کے اپنے منہ سے نکتے اور اسرار سنتا ہے اور دوسراوہ جو خود ہی خیالی پلاؤ پیکا رہا ہے ، یہ دونوں شخص کس طرح برا بر ہو سکتے ہیں۔سے ترجمہ : جب میرے چاند نے میرے دل پر محبت کی نظر ڈالی تو میرے سیاہ دل کو خالص چاندی بنا دیا۔سلے ترجمہ : اسے خاضوا موت کا وقت قریب آگیا ہے اس کی کچھ فکر کرد حسین اور چاند جیسی پیشانی والی مشوقوں کے ساتھ شراب کا دور کب تک چلے گا؟