درثمین فارسی کے محاسن — Page 237
دور کے ایک مسنی مطلق وقت کے ہیں یعنی موت کا وقت قریب آرہا ہے۔اس کی فکر کرد میشوں کے ساتھ مل کر شراب پینے کا زمانہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔دور کے دوسرے معنی چکر مینی بار بار آنے کے ہیں یعنی تم دیکھتے نہیں کہ موت کا دور قریب آگیا ہے۔کبھی ایک کو لے جاتی ہے ، کبھی دوسرے کو۔پس اسے مخاطب آپ کی باری بھی دور نہیں۔توکب تک معشوقوں کے ساتھ بار بار یعنی لگا تار شراب پیتا رہے گا۔اس دور کے لفظ نے معافی کو وسعت دیگر شعر کے مفہوم کو بہت ہی قابل توجہ بنا دیا اور غفلت کی شدت کو خوب نمایاں کیا۔۹- آل خرد مند یکیه او دیوانه را پیش بود بے ہو شیا سے آنکہ مست روئے آل یار حسینی ور کمین ۱۵۵۰ یہاں دوہری صنعت طباق ہے۔ایک خرد مند اور دیوانہ میں ، اور ایک ہوشیار اور مست ہیں۔اس طرح یہ شعر زیادہ جاذب توجہ بن گیا۔غرض اس نظم میں ان دو شعروں کے علاوہ بھی بار بار مختلف رنگوں میں اچھی اور بُری حالتوں کا تقابل پیش کر کے وعظ و نصیحت کو کمال تک پہنچایا گیا ہے۔۱۰- حضرت اقدس نے پنجابی اور ہندی کے بعض الفاظ بھی بڑی خوبصورتی سے استعمال فرمائے ہیں۔جیسے سے دین نه از خود بست بوش جان شای دست کھٹر پنچای کشد و امان شالی دور ثمین ) سے عقلمند وہ ہے جو اس کی راہ کا دیوانہ ہو۔ہوشیار وہ ہے، جو اس حسین محبوب کے چہرہ پرست ہو۔لئے : ان کے دلوں میں مخالفت کا یہ جوش اپنے آپ نہیں، کھڑ پنچوں کا ہاتھ ان کے دامن کو کھینچ رہا ہے۔