درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 227 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 227

۲۲۷ پچھلے صفحات میں مختلف عنوانات یعنی مظاہر قدرت ، نفسیات اور جدت کے تحت جو اشعار پیش کئے گئے ہیں۔وہ بھی سہل ممتنع کی ہی مثالیں ہیں۔صرف حسن کلام کے مختلف پہلو دکھانے کے لئے انہیں ان عنوانات کے نیچے تقسیم کیا گیا ہے۔نیچے سہل ممتنع کی مزید مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ان اشعار سے پورا حظ اٹھانے کے لئے فنونِ بلاغت کو کہیں ہوں بھی تو یکسر نظر انداز کر دیجئے۔اور اپنی توجہ صرف الفاظ کی موزونیت اور مطالب کی عمدگی پر مرکوز رکھیے۔خاکسار نے ان استعارہ کی خوبیوں کی تشریح کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔تا قارئین خود ہی ان اشعار کی لذت سے بہرہ اندوز ہوں اسے بشر کے بد سے از ملک نیک تر : نہ بودے اگر یوں محمد بشر دور ثمین ) فانیان را جهانیان نرسند : جانیان را زبانیاں نرسند ہر گیا ہے عارف بنگاه او : دست هر شاخه نماید راه أو در تمین من) در ثمین ص۲) کے دریں گردو غبار سے ساختہ : می توان دید آن رخ آراسته؟ در ثمین ص۲۳) سے ترجمہ: انسان کب فرشتوں سے بہتر ہو سکتا تھا ، اگر محمد جیسا کامل انسان پیدا نہ ہوتا۔دنیا دار لوگ فانی فی اللہ لوگوں کو نہیں پہنچ سکتے، اور زبانی دعوے کرنے والے بچے فدائیوں کو نہیں پہنچ سکے۔گھاس کا ہر تینکا اس کی بارگاہ کا پتہ دیتا ہے ، اور درختوں کی ہر شاخ کی نوک اسی کا راستہ دکھاتی ہے۔اسی مصنوعی گردو غبار میں وہ سجا سجایا چہرہ کیسے نظر آ سکتا ہے ؟