درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 213 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 213

۲۱۳ کے مکان پر مومن خاں، نواب مصلے خاں شیفتہ وغیرہ کا مجمع تھا کسی نے انہیں میں سے تیر کا یہ شعر پڑھا ے اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ ہے : دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں ہر ایک نے قلم اٹھایا کہ اس کا جواب لکھیں لیکن گھنٹوں گزر گئے اور قلم نے ہاتھ سے صفر کا غذ تک آنے کی جرأت نہ کی۔اس عرصہ میں کوئی دوسرے بے تکلف دوست آگئے ، انہوں نے مجمع کو سراپا محو استغراق دیکھ کر پوچھا خیر ہے۔مومن نے کہا ہاں۔قل ھو اللہ کا جواب لکھنا چاہتے ہیں۔(مقدمہ بہشت بہشت مت )۔- مولانا محمد حسین صاحب آزاد فردوسی کے متعلق لکھتے ہیں :- اور شاعر خیالی مطالب کو اچھا پھیلاتے ہیں۔بیاں واقعہ میں کمزور ہو جاتے ہیں مگر اس کی زبان کا زور ہر مطلب پر پوری قوت رکھتا ہے۔اور مقصد معین کو عمدہ طور پر ادا کرتا ہے۔اور شاعر بیت کا دوسرا پلہ بھرتی سے بھرتے ہیں۔وہ اس میں بھی اصلی مطلب کھپاتا ہے یا ایسا مضمون پیدا کرتا ہے کہ اصل ماجرے کا جر معلوم ہوتا ہے۔اس کی انشا پردازی استعاروں سے رنگینی اور صنعتوں سے مینا کاری نہیں مانگتی صاف صاف شعر ، ساده ساده لفظ ، محاورہ کی باتیں، سلیس زبان ، قدرتی نہریں ، چشمہ خداداد کا پانی بہتا چلا جاتا ہے۔(سخندان فارس ۲۱) یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس کے کلام میں صنائع بدائع کا استعمال بہت کم ہے ، گویا آئے میں نمک کے برابر ہے۔اگر چہ آپ کو ہر قسم کے مفید فنون بلاغت پر شکل دسترس حاصل تھی جیسا کہ آپ کے کلام میں ان کے نمونے قبل ازیں پیش کئے جا چکے ہیں۔پھر بھی آپ کے کلام میں جو بے انتہا کشش پائی جاتی ہے ، اس کی بنا زیادہ تر مطالب کی عمدگی اور مناسب الفاظ کے انتخاب پر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انشا پردازی اور شاعری کا مقصد یہ نہیں کہ کلام میں فنون بلاغت کا مظاہرہ