درثمین فارسی کے محاسن — Page 212
۲۱۲ سلاست کلام سلاست کے یہ معنی ہیں کہ الفاظ وہ ہوں جو روزمرہ کے استعمال میں ہوں۔محاورہ وہ ہو جو عام طور پر زبانوں پر جاری ہو۔استعارہ اور تشبیہ ایسے ہوں کہ سامع کا ذہن فورا اس طرف منتقل ہو جائے۔اضافات کی کثرت و پیچیدگی ن ہو۔ادنی ، اوسط، اعلیٰ ہر شخص اپنے فہم رتبہ کے مطابق لطف اُٹھائے۔اسی مضمون کو خاتم الشعراء غالب دہلوی نے کہا ہے سے دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا : میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میردل میں ہے صاحب عقد الفرید شعر کے محاسن بیان کرتے ہوئے آخر میں قول فیصل یہ لکھتے ہیں ، کہ اس باب میں سب سے بہتر زبیر ابن سلمیٰ کا قول ہے۔وہ کہتا ہے : سے وَان اَحْسَنَ بَنتِ انتَ تَائِلُهُ : بَنتُ يُقَالُ إِذَا انْشَدْتَهُ صَدَقَا یعنی سے بہتر وہی شعر ہے کہ جب تو اُسے پڑھے تو کسنے والا بے اختیار کہ اُٹھے کہ بچے کہا۔یہی شعر ایک جگہ حضرت حسان انصاری کے کلام میں بھی پایا جاتا ہے جیسی اس کی رائے کی موفقت ظاہر ہوتی ہے، لیکن فقیر کے خیال میں بہترین فیصلہ ابن رشیق کا ہے۔سلامت شعری کی جو تصویر اُس نے کھینچی ہے اس سے بہتر ناممکن ہے۔وہ کہتا ہے : فَإِذَا قِيلَ اطْمَعَ النَّاسُ طُرّاً : وَإِذَارِيمَ أَعْجَزَ الْمُعْجِزِيْنَا یعنی جب شعر پڑھا جائے تو اس کی سلامت و سادگی سے ہر شخص کو یہ ظلم ہو کہ ایس میں بھی کہہ سکتا ہوں لیکن جب کہنے کا قصد کریں۔تو ادنی اور اوسط کا تو کیا ذکر معجزہ بیان بھی عاجز آجائیں۔اس میں شک نہیں کہ ابن رشیق کایہ فیصلہ فیصلہ ناطق ہے۔ایک قصہ مشہور ہے کہ مفتی صدرالدین آزردہ مرحوم