درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 203 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 203

۳۰۳ عاشقان جلال روئے خدا : طالبان زلال جوائے خدات ور تمین ) لمیح یعنی کسی قصہ یا خاص مشہور واقعہ کی طرف اشارہ ، یا کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ جو مروجہ کتب میں مذکور ہو۔صد ہزاراں یوسف بینم دیں چاہ دقن : و آن مسیح ناصری شد ازدم و بے شمارت در ثمین طلا) پہلے مصرع میں حضرت یوسف کو کنویں میں پھینکے جانے کی طرف اور دوسرے مصرع میں حضرت عیسی کے مرد سے زندہ کرنے کی طرف اشارہ ہے۔- روح او در گفتن قول بلی اول کسے : آدم توحید و پیش از آرش پیوند یار د در ثمین ) قرآنی آیت الست بربكم قالوا بلی (الاعراف :۱۷۳) کی طرف اشارہ ہے۔خوب گفت آن قادر رت الورى : لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى دوسرا مصرع قرآن مجید کی آیت ہے۔(النجم : ۴۰) ۲۱۲ در ثمین ص۲) دوزخی کنز عذاب پر چول خشم : اصلِ اَل بست لاَ يُكَلِّمُهُمْ ؟ سورۃ بقرہ آیت ۵ امیں ہے : لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيمَة آیا ہے ( در تمین ) لے ترجمہ : خدا کے چہرے کے جلال کے عاشق ، خدا کی نہر کے مصفا پانی کے طالب۔کے ترجمہ: مجھے اس چاہ ذقن میں لاکھوں یوسف نظر آتے ہیں اور اس کے دم سے بے شمار یخ ناصری پیدا ہو گئے۔سے ترجمہ : قول بلی کہنے میں اسکی روح سب سے آگے ہے ، وہ تو حید آدم ہے، اور آدم سے پہلے مجبور ہے واصل تھا۔کے ترجمہ : اس رب العالمین اور قادر محمد نے خوب کہا ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جسکے لئے وہ کوشش کرے۔ہے ترجمہ : وہ دوزخ بوخم کی طرح غذا سے پر ہے ، سکی حقیقت یہ ہے کہ خدا ان سے کلام نہیں کرے گا۔