درثمین فارسی کے محاسن — Page 202
اشتقاق زور تو غالب است بر همه چیز : ہمہ چیزے بہ جنب تو نا چیز ور ثمین صد) باد دوصد زنجیر بردم پیش یار : خار با او گل گلی اندر ہجر خانه دور ثمین ۱۳۵) دو لفظ ایک مادہ سے مشتق ہوں اور باعتبار معنی بھی متفق۔جیسے ہے علم را عالم بہتے دارد براه : بت پرستی پاکند شام و پگاه دور مین ) هر دم از کارخ عالم آواز ست که یکیش بانی و بنا ساز نیست ذو القافین در ثمین مث ) وہ شعر جس میں دو یا زیادہ قافیے ہوں۔جیسے سے آپ جہاں بخشی جاناں آیدت رو طلب مے کن اگر جان باید سے در ثمین منت ے ترجمہ : تیری طاقت ہر چیز پر غالب ہے ، اور تمام چیزیں تیرے مقابل پر پہنچے ہیں۔سینکڑوں بندھنوں کے باوجود ہر دم محبوب کے حضور رہتے ہیں۔اس کے پاس ہوں تو کانٹے پھول اور اس سے پرے ہوں تو پھول کانٹے معلوم ہوتے ہیں۔سے ترجمہ : عالموں نے علم کو اپنے راستہ کا بت بنایا ہوا ہے، وہ صبح شام بت پرستی میں مشغول ہیں۔ہر وقت نظام عالم گواہی دے رہا ہے ، کہ اس جہان کی بنیا د رکھنے وال اور اسے بنانیوال کوئی ضروری ہے۔کے ترجمہ ، زندگی بخش پانی محبوب سے ملتا ہے ، اگر زندگی درکار ہو تو جاد اس سے ) مانگ۔