درثمین فارسی کے محاسن — Page 201
۲۰۱ سیل عشق دلبرے پر زور بود + غالب آمد رخت مارا در ریود دور ثمین فت) رد العجز علی الصد جو لفظ شو کے آخرمیں آئے وہی شروع میں ہو، یا مصرع اول کے درمیان کہیں۔یا اس کے آخر میں یا دوسرے مصرع کے شروع میں۔یہ سب اسی صنعت میں شمار ہوتے ہیں۔جیسے سے بشر کے برے از ملک نیک تر نہ بودے اگر چوں محمد بشیر ) در تمین (۳۱۲) سخن کونمو دست در عدن + به معنی رسانید لفظ سخن (در تمین ۳۱۵) قدم خود زده براه عدم گم بیادش زفرق تابلت دیم دور تمین حت) دل از کف و گلهش باشد و فتاده ز فرق : فراغت از همه خود بینی و ریا باشد ۲۶ در ثمین ) سے ترجمہ : دلبر کے عشق کا سیلاب زوروں پر تھا، وہ غالب آگیا اور ہمارا تمام مال واسباب بہا کر لے گیا۔کے ترجمہ : انسان فرشتے سے کیونکر بڑھتا۔اگر محمد مبیسا انسان ( پیدا) نہ ہوتا۔وہ کلام جو در عدن دکھائی دیتا ہے، انتھی کلام کو معانی تک پہنچا دیا۔انہوں نے اپنا قدم عدم کی راہ پر رکھا۔اور حندا کی یاد میں سر سے پیر تک غرق ہو گئے۔اس کا دل ہاتھ سے اور ٹوپی سرسے گر گئی، خود پسندی اور ظاہر داری سے پاک ہو گیا۔