درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 193 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 193

١٩٣ دانگه او نام نے تحقیق و درکی مبتلاست : آدمی ہرگز نباشد بست او بدتر زخره دور ثمین ) استفہام : بینی سوال کے رنگ میں بات کرتا۔اسے مختلف اغراض کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یعنی (1) تعجب (۲) تاکید (۳) توقف (۴) تقریه (۵) انکار - ا تعجب جیسے۔کجاشد در بین آن زبان وصال کجا شد چنان فرم اس ماہ و سال ؟ (در تمین ) ۲ - تاکیب یعنی کلام میں زور پیدا کرنا۔جیسے سے کے پسندد خود که آی اکبر : شہر تے یافت از طفیل بشر ور مین ملا کجاست علیم صادق که تا حقیقت ما : بر وعیاں ہم ان پرده خفا باش که روز ثمین ) - توقف۔آگے الگ عنوان رکھیئے۔۔تقریر۔اسے استخدام جوابی بھی کہتے ہیں۔جیسے چہ دانی کہ ایشاں چپساں سے زمیند؟ : ز دنیا نہاں در یہاں سے زینده دور ثمین منت لے ترجمہ : جوشخص تحیق کے لئے تونہیں آتامین شمنی میں لگارہتا ہے، وہ ہرگز انسان نہیں بلکہ گدھے سے بھی بد تر ہے۔ترجمہ : افسوس وہ ملاقات کا زمانہ کہاں گیا ، وہ خوشی والے مہینے اور سال کہاں چلے گئے۔سے ترجمہ ، عقل کسی طرح پسند کر سکتی ہے کہ وہ خدائے برتر کسی انسان کے طفیل شہرت پائے، وہ سچے الہام پانے والا کہاں دہل سکتا ہے ، کہ ہماری حقیقت اس پر پردہ غیب سے ظاہر ہو جائے۔سے ترجمہ تجھے کا معلوم کروہ لوگ کس طرح زندگی بسر کرتے ہیں، وہ تودنیا سے پوشیدہ در پوشیدہ زندگی گذارتے ہیں۔