درثمین فارسی کے محاسن — Page 190
19- هر که در مجمرت افتاد تو بریایی کردی و هر که آمد بر تو و تو گریاں کر دی ہی در ثمین (۲) التفات کلام میں صیغہ جات نائب ، مخاطب اور متکلم کو بدل بدل کردن نا جیسے سے ہزارہ نعت نمائی کے چوسکڑنا : به نقش خوب عیار و صفا کجا باشد موید یه مسیحادم است مهدی وقت : بشان اور گرے کے زاتقیا باشد چونچہ بود جہانے خموش و سربسته : من آمدم بقد و میکه از صبا با شد در ثمین سن ۲) تا نہ نو شد جام این زہرے کے کے رہائی یا بد از مرگ آں تھے ہم زیرا این موت است پنہاں صدحیات : زندگی خواهی بخور جارم نمات (در ثمین ص) کے خستنگان دین مرا از آسمان طلبیده اند + آمدم وقتیکه دلمانوں زنم گردیده اند ور ثمین ص۲۵۲) کے ترجمہ جو کوئی تیری پیٹ میں گرو نے جو ڈال ، جوتیرے پاس خوش خوش کیا تو نے اسے لگا دیا۔ترجمہ : تو ہزاروں نقدی دکھائے، پھر بھی خوبصورتی، کھر ان اور صفائی میں ہمارے سکھ جیسی کب ہوسکتی ہے۔وہ تائی یافتہ شخص جو سیمادم اور وقت کا مہدی ہے، اسکی شان کو متقیوں میں سے کوئی کیسے پہنچ سکتا ہے۔یہ جہاں اک کلی کی طرح تابیں اسطرح یا گویا بویا گئی جب تک ٹی اس زہر کا پیار نہیں پیتا تب تک وہ حقیرانسان کثبت بائی پاسکتا ہے۔کے ترجمہ : اس موت کے نیچے سینکڑوں زندگیاں پوشیدہ ہیں۔اگر تو زندگی چاہتا ہے تو موت کا پیار پی سے دین کے زخمیوں یعنی دین کا فکر کرنے والوں نے مجھے آسمان سے بڑایا ہے۔میں ایسے وقت پر آیا ہوں کہ دل غم کے مارے خون ہو گئے تھے۔