درثمین فارسی کے محاسن — Page 149
۱۳۹۔آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے غلاموں کو دیکھیئے جن کے غلام ایسے ہوں ان کی اپنی شان کیسی ہوگی: اے در انکار و شکے از شاہ دیں : خادمان و چاکرانش را ببین کس ندیده از بزرگانت نشان نیست در دست تو بیش از داستان لیک گر خواهی بیا بنگر زما : صد نشان صدق شان مصطفی ہاں بیا اسے دیدہ بستر از حد به تا شعاعش پرده تو بر درد! صادقان را نور حق تابد مدام : کا زبان مردند و شد ترکی تمام مصطفی مهر درخشان خداست به بر عدوش لعنت ارض و سماست این نشان لعنت آمد کایی خسان به مانده اند ظلمتے چون شتران! نے دل صافی نہ عقلے راہ میں بے راندہ درگاہ رب العالمین ! جان کنی صد کن یکین مصطفے : ره نه بینی جز بدین معا گئی مصطفے تانه نور احمد آید چاره گر :: کس نمی گیرد نه تاریخی بدری اے ترجمہ : اے وہ شخص کہ تو دین کے بادشاہ سے انکاری اور شاکی ہے ، اس کے خادموں اور نوکروں کو ہی دیکھ ہے۔تیرے بزرگوں کی توکوئی نشانی کس نے نہیں دیکھی تیرے ہاتھوںمیں توقصے کہانیوںکے سوا اور کچن ہیں لیکن اگر تو چاہے تو ہمارے پاس آ۔اور ہم سے مصطفے کی شان ی سچائی کے سینکڑوں نشان دیکھ لے۔ہاں اس شخص جیسی حمد سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اسکی روشن تیرا پردہ پھاڑ ڈالے بچوں کی چائی کا اور یہ کہتا رہتا ہے جھوٹے مرگئے اور ان کی تورکی تمام ہوگئی مسلئے ہند کا چمکتا ہوا سورج ہے اسکے دشمن پر زمین و آسمان کی لعنت ہے، لعنت کا یہی تو نشان ہے کہ یہ دلیل لوگ چمگادڑوں کی طرح اندھیرے میں پڑے ہوئے ہیں۔نہ ان کا دل صاف ہے ، نہ انکی عقل کو راستہ نظر آتا ہے۔وہ رب العالمین کی درگاہ سے دھتکارے ہوئے ہیں۔تو مصطفے کی شنی میں سو دفعہ بھی اپنی جان ہلاک کرے۔پھر بھی دین ملے کے سوا تجھے کوئی رسیدھا راستہ نہیں ملے گا جب تک احمد کی روشتی چارہ گر نہ ہو، تب تک کوئی اندھیرے سے باہر نہیں نکل سکتا۔