درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 146 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 146

۱۳۶ ہمچنیں مے والی مقام انبیا واصلان و فاصلان انه ماسوا مانی اند و اگه ربانی اند نوری در جامه انسانی اند در ثمین ۱۳-۱۳۷) ها نسی۔ان لوگوں کی حقیقت دنیا داروں کی نگاہ سے پوشیدہ ہوتی ہے سے سخت پنہاں در قباب حضرت اند ، گم ز خود در رنگ و آب حضرت اند اختران آسمان زیب و فر به رفته اند چشم خلائق دور تر کسی از قدیر نورشان آگاه نیست : ز آنکه ادنی را با علی راه نیست کور کورانہ زندہ رائے دنی : چشم کورش بے خبر زاں روشنی ہمچنیں تو اسے عدد مصطفے : سے نمائی کو ریئے خود را بما بر قمر عو عوکنی از سنگ رگی بے نور مه کمتر نہ گردو زمیں سنگی ! مصطفی آئینہ روئے خداست : منعکس درد سے ہماں خوئے خداست ہے لے ترجمہ : اس طرح انبیاء کا مقام سمجھ لو وہ خدا سے تعلق رکھتے ہیں۔اور غیروں سے لاتعلق رہتے ہیں۔وہ فانی فی اللہ ہیں اور خدا کا ہتھیار ہیں، انسانی لباس میں خدا کا نور ہیں۔ے ترجمہ : وہ بارگاہ الہی کے گنبد میں چھپے ہوئے ہیں۔وہ اپنے اپنے گم اور خدا کے رنگ و روپ میں ہیں۔وہ زیبائش اور شان و شوکر کے آسمان کے ستارے ہیں۔اور لوگوں کی نظروں سے بہت دور چلے گئے ہیں۔کوئی ان کے نور کے اندر سے واقف نہیں، کیڈ کہ ادنی کو اعلیٰ تک رسائی نہیں ہوتی۔اندھا رائے بھی اندھوں والی ہی دیتا ہے۔اس کی اندھی آنکھیں روشنی سے ناآشنا ہوتی ہیں۔اسی طرح تو بھی اسے مصطفے کے دشمن ہمیں اپنا اندھاپن دکھاتا ہے۔کہتے کی خصلت کی وجہ سے تو چاند پربھونکتا ہے، لیکن اس کتے پین سے چاند کی روشنی کم نہیں ہوتی۔مصطفے " تو خدا کے چہرہ کا ایگیتہ ہے۔اس میں وہی خدا کی صفات منعکس ہیں۔