درثمین فارسی کے محاسن — Page xvii
اور والد صاحب کے ہر چند کوشش کرنے پر چپ نہ ہوتا تھا۔آخر اس شرط پر چپ ہوا۔کہ جب حضور تشریف لا ئینگے تو پھر رونا شروع کر دونگا۔انہوں نے سمجھا کہ بچہ ہے اسے کہاں یا در ہیگا۔لیکن جب حضور تشریف لائے۔تو پھر رونا شروع کر دیا۔اس پر حضور علیہ السلام نے بچوں سے نرم سلوک کرنے کے متعلق کچھ عرصہ تقریر فرمائی۔دوسر ا وقعہ جو والد مرحوم بیان فرمایا کرتے تھے۔یہ ہے کہ والد مرحوم حضرت محمد خانصاحب مرحوم کی عیادت کیلئے جایا کرتے تھے۔ان دنوں قادیان میں زیر علاج تھے۔ایک دن انکی قیام گاہ پر گئے تو یہ عاجز بھی ساتھ تھا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی خانصاحب کی عیادت کیلئے تشریف لائے۔آپ کے ساتھ بہت سے احباب تھے۔جن کی وجہ سے خاکسار کو بہت پیچھے ہنا پڑا اور رونا شروع کر دیا۔حضور نے دریافت فرمایا کہ بچہ کون ہے۔اور کیوں روتا ہے۔اس عاجز نے روتے روتے کہا کہ مجھے امام مہدی کے پاس نہیں آنے دیتے۔جس پر خاکسار کو حضور کے پاس جانے کیلئے راستہ دیدیا گیا۔حضور نے اس خاک پاکو گود میں اٹھا لیا اور بہت شفقت فرمائی۔اللهم صل على محمد و على آل محمد وعلى المسيح الموعود و على آله واصحابه۔خاکسار عبد الحق رامه ۳۱-۱-۱۹۷۷ (XIII)