درثمین فارسی کے محاسن — Page 134
از خردمندان مرا انکار نیست : لیکن این ره راه وصل یار نیست تانه باشد عشق و سودا و جنوں : جلوہ ننماید نگار بے چگوں چوں نہاں است آن عزیز سے محترم : ہر کسے را ہے گزیند لاجرم اں رہے کو عاقلاں بگزیده اند : از تکلف رائے حق پوشیده اند پرده ها بر پرده ها انداخته : مطلبے نزدیک دور انداخته ما که با دیدایه او رو تافتیم ؛ از ره عشق و فنایش یافتیم ترک خود کردیم بہر ای خدا : از فنائے ما پدید آمد بقا اندرین راه در دسر بسیار نیست : جان بخوابد دادنش و شوار نیست گرنه او خواند سے مرا از فضل وجود : صد فضولی کردمے بے سود بوری ور ثمین ۲۳) لے : مجھے داناؤں کی دانائی سے انکار نہیں۔لیکن یہ راہ محبوب کے وصل کی راہ نہیں۔جب تک عشق اور سودا اور جنون نہ ہو۔وہ بے مثال محبوب اپنا جلوہ نہیں دکھاتا۔چونکہ وہ قابل احترام محبوب پوشیده ہے اس لئے اس سے ملنے کی خاطر شخص کوئی ن کوئی راستہ اختیار کر تا ہے۔لیکن عقل والوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اس سے خدا کا چہرہ چھپ گیا ہے۔انہوں نے پردوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور وہ مقصد جو نزدیک تھا اسے دور کر دیا ہے۔ہم لوگ جنہوں نے اس کے دیدار سے اپنا چہرہ روشن کیا ہے۔ہم نے اسے عشق اور فضا کے راستہ سے ہی پایا ہے۔اس خدا کے لئے ہم نے اپنی خودی چھوڑ دی، تو ہماری فضا کے نتیج میں بقاپیدا ہوگئی۔اس راہ میں کچھ زیادہ دردسر برداشت کرنا نہیں پڑتا۔وہ صرف جان مانگتا ہے۔جس کا دنیا کے مشکل نہیں۔اگروہ اپنے فضل وکرم سے مجھ خون بارات خواہ کتنی ہی بڑھ چڑھ کر این با اسب بے فائدہ تھیں۔