درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 132 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 132

۱۳۳ ین دونیا بد خواہد ہم تلاش رو براش جہد کن ناداں مباش نے ور ثمین (۲۱۲) ہمت دُوں تدار ، چوں دوناں 4 رو، بجو یار را ، چو مجنوناں ہر کہ جو ہائے اوست یافته است : تافت آن رو، که سرنتافته است آخرین خدا ، برای مردی که برین در شهداست، چون گرد تھے د در ثمین ص۳۶۲ ) دُعا چون بماند نہ ہر طرف ناچار : نالد آخر بدرگه دادار نعرہ ہامی نهند بحضرت پاک وز تفرع جیسی نهد بر خاک در خود بندد و بگرید زار : کائے کشاننده ره وشوار گنه من به بخش و پرده پوش به تانه دشمن زند شادی بوشته د در ثمین 119-11A سے ترجمہ : دین اور دنیا پوری کوشش چاہتے ہیں ، جا اس کی راہ میں کوشش کرنا دان نہ بن۔ے ترجمہ کیلئے لوگوں کی طرح اپنی بہت کو پست نہ رکھ ، جانمبو کے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ۔جوکوئی اسکا طالب ہوا اس نے اسے پالیا ، وہی سرخرو ہوا جس نے اس سے سر نہ پھیرا۔خدا کی طرف سے اس جوانمرد پر آفرین ہے جو اس دروازہ پر خاک کی طرح ہو گیا ہے : سے ترجمہ : انسان جب ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے، تو آخر خدا کی بارگاہ میں جاکہ دتا ہے۔اسکی پاک درگاہ میں چین و پکار کرتا ہے اور اس کے حضور عاجزی سے اپنا ہاتھ خاک پر رکھ دیتا ہے، اپنا دروازہ بند کر لیتا ہے اور رو رو ک عرض کرتا ہے کرائے مشکل کشا میرے گناہ بخش اور میری پردہ پوشی فرما، تامیری حالت شمانت اعدا کا باعث نہ بنے :