درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 131 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 131

جہد در رضائے خدا شدن چوں خاک و نیستی و فن و استهلاک دل نهادن در آنچه مرضی یار به صبر زیر مجاریئے اقتدار تو بحق نیز دیگر خواہی : این خیال است اصیل گمراہی ور ثمین صدا) سالها باید که خون دلخوری : تا بکوئے داستانے ره بری کے باآسانی رہے بخشایدت به صد بنوں باید کر تا ہوش آید ہے در ثمین صدا تازه تو هستی است ، بدر نرود : این رگِ شرک از تو بر نرود پائے سعیت بلند تر نرود : تا ترا دودِ دل بسر نرود یار پیدا شود در آن هنگام : که تو گردی نہاں ز خود بتمائم ور ثمین ص۳۵۲) ے ترجمہ ، نیز اس کا شیوہ خدا کی رضا کے لئے خاک کی مانند ہو جانا اور اسی کی رضا کے لئے فیستی، فضا اور ہلاکت قبول کر لینا جاتا ہے۔ایک مرض میں موہو جانا اور تضاد قدرکی گوشی پر ا ا ا ا ا ا ا و و و و و و یا این ای سی ایل گراس کی جوانی سے ترجمہ ، تجھے برسوں تک دل کا خون پیناپڑے گا، پھر کہیں جا کر تجھے محبوب کی گلی کا راستہ ملے گا۔یہ راستہ تجھ پر آسانی سے نہیں کھل سکتا، ہوش میں آنے کے لئے تجھے سینکڑوں دیوانگیاں درکار ہیں۔سے ترجمہ : جب تک تیری خودی تجھ سے دور نہ ہو جائے ، یہ شرک کی رگ تجھ سے جدا نہ ہو گی۔جب تک تیری کوشش کا پاؤں انتہائی بلندی تک پہنچ جائے ، جب تک تیرے دل کا دھواں سر سے اوپر نہ چل جائے کچھ نہیں ہوسکتا۔یا درکھ یا بہ اس وقت ظاہر ہو گا ، جب تو اپنے آپ سے بالکل چھپ جائے گا۔