درثمین فارسی کے محاسن — Page 130
- ترك نفس هر که ترک خود کند یا بد ندا : چیست وصل از نفس خودکشتی جدا لیک ترک نفس کے آسان بود مردان از خود شدن یکسان بود تانه ای باد و ز دور جان ما کور باید ذره امکان ما کے دریں گردو غبارے ساختہ : می توان دید آن رخ آراستہ تا نہ قربان خدائے خود شویم! : تا نه محو آشنائے خود شویم! انه باشیم از وجود خود برون به تانه گرد روز پیش اندرون تانه بر ما مرگ آید صد ہزار کے حیاتے تازہ بینم از نگاه؟ : در ثمین ص ۲۳) لا جرم طالب رضائے خدا : بگسلد از ہمہ برائے حندا شیوه اش می شود خدا گشتن : بهر حق ہم زجاں جُدا گشتن مد لے ترجمہ جو شخص نفس کو چھوڑے وہ خدا کو پالیتا ہے، خدا کا وصل کیا ہے، اپنے نفس سے الگ ہو جانا لیکن نفس کو چھوڑنا آسان کام نہیں۔مرنا اور نفس کو چھوڑنا برابر ہیں جب تک ہمارے وجود پر وہ ہوا نہ چلے جو ہماری ہستی کے ذرے ذرے کو اڑا لے جائے۔اس گھمبیر گیر دوغبار میں وہ مزین چہرہ کیسے نظر آسکتا ہے۔جب تک ہم اپنے خدا پر قربان نہ ہو جائیں۔جب تک اپنے محبوب میں محو نہ ہو جائیں۔جب تک ہم اپنے وجود سے علیحدہ نہ ہو جائیں۔جب تک سینہ اس کی محبت سے بھر نہ جائے۔جب تک ہم پر لاکھوں موتیں وارد نہ ہوں۔ہمیں اس محبوب کی طرف سے نئی نہ ندگی کس طرح مل سکتی ہے ؟ ترجمہ : سچی بات یہ ہے کہ خدا کی رضا کا طالب خدا کے لئے سر سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔اس کا شیوہ فداکاری اور خدا کی خاطر جان قربان کر دینا بن جاتا ہے۔