درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 127 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 127

۱۲۷ دزد را کار هست، با شب تار به چوی سحر شد ، گریزدان غدار ہمچو قولِ خُدا ، گدام سحر به که رود تیرگی ، از و یکسر هر که این در برو خدا بخشاد : بے توقف ، خدایش آمد یاد دور ثمین م۲۲) - صحبت صالحین ا میر که روشن شد وان و میانی درش از نفراتش به کیمیا باشد بسر بردن و سه در صحبتشان د در ثمین ص۲۳۵ از بندگان نفس ره آن یگان میرس: ہر جا کہ گرد خاست ہو اس سے دران بجو آن کس که مست از پئے آں یار بیقرار + محبتش گریں و قرار سے دراں بیجو بر استان آنکه خود رفت بہر یار : چون خاک باش مرضی یا س سے دراں بچھو مروان به تلخ کلامی وحرقت بدورسند : حرقت گزین و فتح حصار سے دراں مجھے لہ ترجمہ: چور کا تعلق صرف اندھیری رات سے ہے ، جب صبح ہوتی ہے تو غدار بھاگ جاتا ہے۔خداکے کلام جیسی اورکونسی صبح ہے، جیسی اندھیرا بالکل دور ہو جائے جس پر خدا یہ دروازہ کھول دیتا ہے، اسے بلا توقف خدا یاد آجاتا ہے۔سے ترجمہ جس کا دل، جان اور سینہ خدا کی طرف سے روشن ہو گیا ہے ، اس کی صحبت میں ایک لمحہ گزارنا بھی کیمیا ہے۔سے ترجمہ ، نفس کے غلاموں سے اس یکتا خدا کا راستہ مت پوچھو، جہاں کہیں سے گرد اٹھی ہے وہاں سوانہ کو توانش کہ جو شخص اس محبوب کے لئے بیقرار ہے ، جا اس کی صحبت اختیار کرہ اور وہاں سکون قلب تلاش کر۔اس شخص کی چوکھٹ پر جو یار کے لئے بیخود ہو چکا ہے، خاک کی طرح ہو جا اور وہاں محبوب کی خوشنودی تلاش کر جوانمرد تلخی اور سوزش سے اس تک پہنچتے ہیں، تو بھی سوزا اختیار کر اور اسی میں کامیابی تلاش کر۔