درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 117 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 117

116 ہمدردی خلائق مامورین الہی کے دلوں میں مخلوق کی ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اور رات دن ان کو یہی فکر دامنگیر رہتی ہے کہ کس طرح سے بندگان خدا اپنے رب کی طرف توجہ کریں اللہ تعالٰی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے :۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (سورة الشعراء : ٣) کہ اسے محمد رسول اللہ لوگوں کی ہدایت کی فکر میں آپ کی یہ حالت ہے کہ نہ رات کو آپ آرام کرتے ہیں اور نہ دن کو۔نہ آپ کو کھانے کا فکر ہے نہ پینے کا اور آپ اسی غم میں گھلے جاتے ہیں کہ لوگ اپنے محبوب حقیقی کی طرف رجوع کریں۔اپنے محبوب محمد رسول اللہ کی متابعت میں حضرت اقدس کو بھی ہر وقت یہی احساس بیقرار رکھتا کہ لوگ زندہ خدا کا چہرہ دیکھیں۔حضرت اقدس اپنے اسی درد دل کا اظہار اشعارہ میں 1 یوں کرتے ہیں : بدل در دیگر دارم از برائے طالبان حق : نمے گردو یہاں آن درد از تقریر کو تاہم دل و جانم چنان مستغرق از فکر اوشان است که نے از دل خبر دارم نه از جان خود اگا ہم بدین شادم کر غم از بهر مخلوق خدا دارم : ازین در اذ تم کز درد می خیزد زدل آنیم ه ترجمه : طالبان حق کے لئے جو درد میرے دل میں ہے میری اس مختصر تقریر سے اس درد کا پورا اظہار نہیں ہوسکتا میرا دل اور میری جان ان کی فکر میں ایسی ڈوبی ہوئی ہے کہ نہ مجھے دل کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی جان کا کچھ پت ہے لیکن میں دل میں خوش ہوں کہ مجھے دائی خلق کا غم ہےاور میں اس باتیں لذت مسوس کرتا ہوں کہ میں کل سے لوگوں کو رد کی وجہ نہ ملتی ہے۔